حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 112
حقائق الفرقان الله سُورَةُ آل عِمْرَان زور لگانے والے لوگ بھی ضرور ہونے چاہئیں تھے۔ پر اب ضرور ہے کہ تم اتفاق سے یک دل اور یک جان ہو کر زور لگاؤ تا ایسا نہ ہو کہ فریق مخالف فتح پائے۔ (البدر جلد ۷ نمبر ۳۶ مؤرخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۸ صفحه ۵) دیکھو میں تمہیں دردِ دل سے کہتا ہوں کہ وحدت بڑی چیز ہے اور ہر قسم کی کامیابیوں کی جڑ ہے۔ صحابہ کرام نے اس کا مزہ چکھا ہے۔ ان کی قوم ایک کسمپرس حالت میں تھی ۔ صرف وحدت کے ذریعے ساری دنیا میں عظیم الشان اور مظفر و منصور ہو گئی ۔ جب تک ہر ایک آدمی اپنے اغراض کو چھوڑ کر دوسرے کی ہمدردی میں فنا نہ ہو جاوے یہ بات حاصل نہیں ہوتی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عمائد مکہ کو دعوت دی اور کہا کوئی تم میں سے ہے جو ہمارا بوجھ اٹھا سکے۔ علی اس وقت ایک نو جوان لڑکے تھے ۔ آنکھیں بھی اس وقت خراب تھیں۔ بڑی جرات سے کہا کہ میں حاضر ہوں یا رسول اللہ ! اُس وقت لوگوں نے ہنسی اڑائی مگر خدا کے نزدیک یہ قول ایسا قابلِ قدر تھا کہ تیرہ سو برس گزر گئے اور مولیٰ مرتضی کی اولاد کا بچہ بچہ سید (سردار ) کہلاتا ہے۔ وہ سچا خادم بنا تو خدا نے اسے مخدوم بنا دیا۔ ايته ۔ یہ خدا کی خدائی کے نشانات ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مورخہ یکم و ۸ ر جولائی ۱۹۰۹ ء صفحہ ۶۶، ۶۷) میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تفرقہ ڈالنے اور تفرقہ بڑھانے والی باتیں چھوڑ دیں ۔ ایسی لغو بحثوں سے جن سے نہ دین کا فائدہ نہ دنیا کا ، مونہہ موڑ لو اور سب سے مل کر وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ کا، جميعا کہ حبل اللہ قرآن مجید کو محکم پکڑو ۔ دیکھو! لڑکوں میں ایک رشتے کا کھیل ہے۔ اگر ایک طرف کے لوگ اور باتوں میں لگ جاویں تو وہ رستے میں کس طرح جیت سکتے ہیں ۔ اسی طرح اگر تم اور بحثوں میں لگ جاؤ گے تو قرآن مجید تمہارے ہاتھوں سے جاتا رہے گا۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۳۵ مورخه ۲۹ جون ۱۹۱۱ ء صفحه ۲) البی رسن (قرآن) کے ساتھ اکٹھے ہو کر اپنا بچاؤ کرو اور الگ الگ نہ ہونا۔ اس آیت کریمہ میں ایک حکم ہے کہ ایسا کرو اور دوسری نہی ہے کہ ایسا نہ کرو۔ امر و حکم میں ارشاد ہے کہ ایک ہو جاؤ۔