حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 108 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 108

حقائق الفرقان ۷۰۱ سُورَةُ آل عِمْرَان مشابہت اور علاقہ رکھتا ہے معلوم نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ جو وراء الورا ہستی ہے اس کی رضا مندی کی راہوں کو کیونکر معلوم کرے؟ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی راہ جیسا کہ نادان برہمو کہتا ہے۔ بودی اور کمزور عقل اور محدود اور نا کافی تجربہ سے ہرگز معلوم نہیں ہو سکتی ۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر دنیا میں رنج اور غم کیوں موجود ہوتا ؟ پس معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا مندی کی راہ اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ خود نہ بتلاوے مگر پھر معاً یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ تو غنی عن العالمین ہے۔ وہ کوئی محتاج نہیں ہے۔ پھر کیا تدبیر اور سبیل کی جاوے کہ ان رضا کی باتوں کا پتہ لگ جاوے جن پر عملدرآمد کرنے سے سچا تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سپر ہو جاتا ہے اور ہر قسم کی کامیابیاں عطا فرماتا ہے اور یہ بات بھی ساتھ ہی ہے کہ کیا وہ ہر ایک کو بتلاتا ہے کہ میں یوں راضی ہو جاؤں گا ۔ جب ہم غور سے دیکھتے ہیں تو یہ بھی اس کی عادت نہیں ہے۔ پس معلوم ہوا کہ خدا کو راضی کرنے کی راہ بدوں اس کے بتلائے معلوم نہیں ہو سکتی ۔ جس کے لئے خاص فرشتے خاص بندے مقرر کئے ہیں ۔ جن کے ذریعہ وہ آگاہ کرتا ہے۔ وہ مرسل اور رسول ہوتے ہیں ۔ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے ۔ بلکہ خدا کی بات کہتے ہیں۔ الحکم جلد ۵ نمبر ا مؤرخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۱ ء صفحه ۱۵) لیکن یہ مشکل پیش آئے گی کہ دنیا میں دھو کے بھی ہوتے ہیں جھوٹے مدعی اور خیالی مصلح بھی ہوتے ہیں اور ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ وحی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اندر ہی کی آواز ہوتی ہے جو دل سے ہی نکلتی اور دل پر ہی پڑتی ہے۔ اور پھر ایسے بھی ہیں جو ایسے مدعیوں کو مجنون اور دوکاندار کہتے ہیں اور دنیا میں دوکاندار بھی ہوتے ہیں۔ پھر یہ قاعدہ کیسا عجیب ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مجھ کو سپر بناؤ اور پھر سپر بھی اس طرح جو سپر بنانے کا حق ہے۔ رضاء الہی کی اطلاع بدوں بتلائے نہیں مل سکتی اور سب کو نہیں ملتی ۔ صرف چند خواص کو ملتی ہے اور ادھر یہ ڈبد با پڑی ہوئی ہے کہ ہزاروں انسان دغا اور فریب کرتے ہیں اگر کوئی اس معاملہ میں بھی جھوٹ کہہ دے تو کیونکر پتہ لگے گا۔ اور پھر اس کے بعد یہ فرمایا ہے لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (آل عمران : ۱۰۳) تم فرمانبردار