حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 107 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 107

حقائق الفرقان ۱۰۷ سُورَةُ آل عِمْرَان نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دکھوں سے بچ جاتا ہے اور سکھوں کو پالیتا ہے۔ متقی اللہ کا محب ہوتا ہے۔ متقی کو تمام تنگیوں سے نجات ملتی ہے۔ اس کو مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق : ۴) رزق ملتا ہے۔ متقی کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔ متقی کے دشمن ہلاک ہوتے ہیں اور وہ مقابلہ دشمن میں ممتاز ہوتا ہے۔ متقی پر الہی علوم کھولے جاتے ہیں۔ پس میں بھی پہلی نصیحت یہی کرتا ہوں کہ متقی بنو، متقی بنو۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے لئے متقی بنو اور تم اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار بن جاؤ اور اسی فرمانبرداری پر تمہارا خاتمہ ہو۔ یہ فرمانبرداری عجیب نعمت ہے ابوالملتہ ابراہیم علیہ السلام پر تمام برکتیں اسی فرمانبرداری کی وجہ سے نازل ہوئیں اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّكَ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرۃ : ۱۳۲) اس لئے تم بھی اگر برکات سماوی سے بہرہ اندوز ہونا چاہتے ہو تو متقی بنو اور تقوی کی حقیقت سچے مسلمان میں پیدا ہوتی ہے۔ پس تم بھی مسلم بنو اور تمہارا خاتمہ اسلام پر ہو۔ (الحکم جلد ۱۶ نمبر ۳ مورخه ۲۱ جنوری ۱۹۱۲ صفحه ۳) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِه (ال عمران : (۱۰۳) یعنی مومنو ! اللہ تعالیٰ کو اپنا سپر بناؤ۔ دکھوں سے بچنے کے لئے اور مشکلات اور مصائب سے رہائی پانے کے لئے یہی ایک گر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا سپر بنالو۔ وہ اگر حامی اور مددگار ہو تو پھر کوئی دشمن باقی رہ نہیں سکتا۔ وہ سب کو نا کام اور نامراد کر دے گا لیکن اب یہ غور طلب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پر کس طرح بنا یا جاوے؟ ایک آدمی منہ سے تو کہتا ہے کہ اے اللہ تو مجھ کو بچا۔ پھر دل میں بُڑے بڑے منصوبے باندھتا ہے اور ایک اور شخص ہے جو دل سے منصوبے نہیں باندھتا لیکن زبان سے بھی کچھ نہیں کہتا۔ یہ کوئی طریق سپر بنانے کا نہیں ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے۔ حق تقتہ جو سپر بنانے کا حق ہے۔ اس طرح پر سپر بناؤ۔ سپر بنانے کا حق یوں ہوتا ہے کہ خدا کی رضا کو حاصل کرے۔ لیکن اب یہ ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ رضا حاصل کیونکر ہو؟ انسان جبکہ دوسرے انسان کی رضامندی کی راہوں کو باوجود یکہ وہ کھانے پینے میں اس سے ایک قرب اور مشابہت رکھتا ہے اور جینت کے لحاظ سے بھی ایک ا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو ۔ ۲۔ جب ہی کہ ابراہیم کو اس کے رب نے کہا کہ تو فرمانبردار بن جا تب ہی اُس نے عرض کی میں تو رب العالمین کا فرمانبردار ہو چکا۔