حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 104 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 104

حقائق الفرقان موجود ہے۔ ۱۰۴ سُورَةُ آل عِمْرَان پس انسان کو بیٹھے بیٹھے کبھی نیک اور کبھی بدارا دے پیدا ہو جاتے ہیں یہ کیوں ہوتے ہیں جبکہ کوئی کام بدوں اسباب اور علل کے نہیں ہوتا۔ تو نیک اور بدارادے کی تحریک کیوں ہوئی ۔ اس محرک کو ہماری شریعت میں فرشتہ کہتے ہیں ۔ ہم اسی پر قناعت کرتے اور نیکی کے محرک کا نام فرشتہ رکھتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ملائکہ و شیاطین کو ہر وقت انسان کے دل سے تعلق رہتا ہے اور موقع پر تحریکیں کرتے ہیں ۔ اگر وہ تحریک نیکی کی ہے تو فرشتہ کی طرف سے ہے اور بتدریج پھر وہ تحریک ہوتی اور بڑھتی جاتی ہے اور وہ انسان اس میں لگ پڑتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس کے ملائکہ اور شیاطین میں جنگ ہو پڑتی اور ملائکہ جیت جاتے اور پھر وہ شخص فرشتوں سے مصافحہ کر لیتا ہے ۔ اس کے متعلق قرآن کریم میں فرمایا۔ اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ ( حم السجدة: (۳) پس ایسے لوگوں پر پھر ملائکہ نازل ہوتے اور خدا کہتا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں مت غم کھاؤ ۔ پس اس طرح ملائکہ کا ماننا بھی نیکی سکھلاتا اور بدی سے روکتا ہے۔ ا وَأَتَى الْمَالَ عَلَى حُبَّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَنى (البقرۃ:۱۷۸) ہوتے ہیں ۔ اللہ کی محبت اور اللہ کی مخلوق پر رحمت کرنے کے لئے مال خرچ کرتے ہیں یہ ان میں تقوی کا ثبوت ہوتا ہے اور وہ شخص دیتا کہاں ہے تم لوگ میرے رشتہ داروں سے واقف نہیں میرے حالات جوانی سے واق واقف نہیں۔ پر میرے رشتہ دار خوب واقف ہیں۔ اس لئے خدا نے حکم دیا ہے کہ ا۔ مال سے رشتہ داروں کی خبر لو ۔ جب انسان دیکھتا ہے فلاں میرے رشتہ دار نے میرے بچہ کو ا لے کچھ شک نہیں کہ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب تو اللہ ہی ہے ( پھر سب کا دھیان اور مطلق گناہ چھوڑ دیا ) اور اسی حالت پر جمے رہے تو ان پر فرشتے اُترتے ہیں ۔ (ناشر) ہے اور پیارا مال دیا اللہ کی محبت میں رشتہ داروں ( یا اللہ کے مقربوں کو ) اور یتیموں ۔ ( ناشر )