حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 102

حقائق الفرقان ۱۰۲ سُورَةُ آل عِمْرَان اس کو تنگ سے تنگ حالت سے فراخی کی راہ بتادیں گے ۔ رزق کی بھی تکالیف ہوتی ہیں ۔ اس کے سوائے اور کئی قسم کے مشکلات ہوتے ان سب سے نکالیں گے۔ اور رزق وہاں سے دیتا ہوں کہ اس کو خبر بھی نہ ہو۔ ه - إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا (الانفال:۳۰) ہم تمہارے مخالفوں کو اڑا دیں گے اور تمہارے لئے راہ نکالیں گے اور دشمن نا کام ہوں گے۔ میں نے اپنی عمر میں کبھی تنگی نہیں دیکھی پر اس کی حقیقت کو خوب سمجھتا ہوں ۔ ا۔ پس متقی خدا کا محبوب بنتا ۔ ۲ علم سیکھتا ۔ ۳۔ تنگی سے نجات پاتا ۔ ۴۔ کامیاب ہوتا اور اس کے دشمن ناکام ہوتے ہیں ۔ ۵ ۔ رزق لیتا ۔۶۔اس کی باتیں قبول ہوتیں ۔ اب متقی کی حقیقت اور نتائج کو تو تم نے سمجھ لیا۔ اب ہم یہ بتلاتے ہیں کہ تقوی کیا چیز ہے۔ ا۔ پہلی جڑ تقوی کی خدا پر ایمان لانا ہے۔ ۲۔ دوسری جزا وسزا پر ایمان ہے ۔ ۳۔ فرشتوں پر ۔ ۴۔ کتابوں پر ۔ ۵۔ انبیاء پر ایمان لانا۔ ان پانچ جڑوں کی میں تفسیر کرنا چاہتا ہوں جو دل کے متعلق ہے۔ دنیا میں بدی بھی ہوتی ہے جس کا نتیجہ دکھ اور نیکی بھی ہوتی جس کا نتیجہ سکھ ہوتا ہے اور اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ بہت سی آہ و فریاد یں نالہ وزاری گھر والوں اور پڑوسیوں کو بے قرار کر دیتی ہیں جو دکھ کی وجہ سے ہوتی ہیں ایک وجودی کو وجع مفاصل کی بیماری ہوئی اور شدید ہوئی تو ایک دن گھبرا کر یہ شعر کہا إِنْ كَانَ مَنْزِلَتِي فِي الْحُبِّ عِنْدَكُمْ مَا قَدْ لَقِيْتُ فَقَدْ ضَعَيْتُ أَيَّامِي " اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تو محبت کی ترنگ میں کہتے ہیں کہ تو میں اور میں تو ہو گیا ۔ پر اب معلوم ہو گیا کہ تو اور ہے اور میں اور ہوں۔ پس ایک ہی چیز سے دکھ اور سکھ پہنچے یہ نہیں ہو سکتا پھر ہر ایک چیز کے اغراض اور اسباب الگ الگ ہوتے ہیں ۔ دکھ کی جڑھ بدی اور سکھ کی جڑھ نیکی پر ہوتی ہے وہ خواہ کسی ے اگر تم اللہ کوسپر بناؤ گے تو وہ تمہارے لئے ہر ایک کام میں ایک کھلا فیصلہ دے گا۔ ۲۔ تمہارے ہاں محبت میں میرا مقام اگر یہی ہے جو مجھے ( تکلیف) پہنچی ہے تو میں نے اپنے دن ( تجھ سے محبت کرنے میں ) ضائع کر دیئے ۔ (ناشر)