حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 100 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 100

حقائق الفرقان ١٠٠ سُورَةُ آل عِمْرَان لئے بمنزلہ زنجیر کی کڑی کے ہے ۔ پس تقوی اختیار کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم مسلمان ہی مرو گے۔ تقوی کی بہت سی راہیں ہیں ایک ان میں سے یہ ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مؤرخہ یکم و ۸ ر جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۶۶ ) یہاں اسلامی شریعت نے تقوی کے معنی بتلائے ہیں ۔ تقویٰ کی جڑ، شاخوں اور اس کی روکوں کا اظہار کیا ہے اور یہ بتلایا ہے کہ سچے متقی کون ہوتے ہیں میں نے اس پہلی زیر نظر آیت کے لفظ تقوی کی تفسیر کے واسطے یہ دوسری آیت پڑھی ہے۔ لکن میرا جی چاہتا ہے کہ تمہیں پہلے یہ بتاؤں کہ تقوی کیا ہوتا ہے کبھی جی چاہتا کہ تمہیں پہلے یہ بتلاؤں کہ تقویٰ کے نتائج کیا ہوتے ہیں ۔ کیونکہ جب نتیجہ مد نظر ہوتا ہے تو انسان اس کام کو شرح صدر سے کرتا ہے ۔ پس پہلے مجھے بھی یہ پسند ہے کہ تمہیں بتاؤں کہ تقویٰ کے نتائج کیا ہیں پس مختصراً بتلا دیتا ہوں ۔ ایک مومن کی طبیعت چاہتی ہے کہ صرف اس لئے کہ ہمارے مالک رب العالمین کا حکم ہے ہم مانے کو تیار ہیں ہمیں بتلا دو کہ تقوی کیا چیز ہے۔ مگر ایک اور شخص یہ سوال پیش کر سکتا ہے کہ ہم کسی کام کوکر نہیں سکتے جب تک ہمیں یہ علم نہ ہو کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ پس بہتر ہے کہ ہم پہلے نتائج کا ہی اظہار کریں۔ ہر ایک انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ میں ایک طاقت عظیم یا عظیم کا محبوب بن جاؤں۔ ۔ جب یہ یہ خواہش خوا " موجود ہے تو ایک بیمار جو بہت طبیبوں کا علاج کر چکا ہے مفلس ہو گیا ہے۔ گھر والوں کو دو بھر معلوم ہوتا ہے۔ پر جب وہ ہر طرف سے تھک کر میری طرف آتا ہے تو اخراجات کثیر کا زیر بار ہو کر آتا اور پھر میرے سامنے نذر رکھتا ہے۔ حالانکہ کیا اس کو یقین ہے کہ اس سے مجھے شفامل جاوے گی ۔ یا اس کی طبابت اکمل ہے۔ پھر ہماری طبابت ہی کیا ہے۔ اس کا بہت سارا حصہ کنچینیوں، ڈاکٹروں ، حجاموں ، جراحوں کے سپرد ہے اور بہت تھوڑا حصہ ہمارے پاس ہے۔ پھر باوجود اس قلیل مقدار طب کے پھر وہ ہمارے ہاتھ سے زہر کھانے کو بھی تیار ہے۔ پس یہ وہی بات ہے کہ اپنے سے رہ عظیم کا متبع بننا چاہتا ہے۔ پھر انسان طاقتوروں کا بھی اپنا بننا چاہتا ہے مثلاً حکام کا جیسے کوئی شخص کہہ دیتا کہ فلاں ڈاکٹر یا زیادہ