حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 99 of 536

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 99

حقائق الفرقان ۹۹ سُورَةُ آل عِمْرَان ہو، ایسا بسترہ ہو، ایسے ایسے عیش و عشرت کے سامان موجود ہوں ، اس اس طرح کے خوشکن اسباب میسر آ جاویں تو اس کی موت مسلمان کی موت نہیں ہو سکتی ۔ مومن اور مسلمان انسان کی تو ایسی حالت ہو جانی چاہئے کہ مرتے وقت کوئی غم اور اندیشہ نہ ہو ۔ اسی واسطے فرمایا لا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ انْتُمْ مسْلِمُونَ (ال عمران : ۱۰۳) یعنی فرمانبردار ہو کر مر یو۔ کس کو خبر ہے کہ موت کے وقت اس کی ہوش بھی قائم ہوگی یا نہیں ۔ کئی مرنے کے وقت خراٹے لیتے ہیں۔ دہی بلونے کی طرح آواز نکالتے ہیں اور طرح طرح کے سانس لیتے ہیں ۔ کئی کتے کی طرح ہاہا کرتے ہیں۔ جب یہ حال ہے اور دوسری طرف خدا بھی کہتا ہے کہ مسلمان ہو کر مریو ، ایسے ہی رسول نے بھی کہا۔ تو یہ کس کے اختیار میں ہے جو ایسی موت مرے جو مسلمان کی موت ہو، گھبراہٹ کی موت نہ ہو۔ اس کا ایک ستر ہے کہ جب انسان سکھ میں اور عیش و عشرت اور ہر طرح کے آرام میں ہوتا ہے سب قوئی اس میں موجود ہوتے ہیں۔ کوئی مصیبت نہیں ہوتی ۔ اس وقت استطاعت اور مقدرت ہوتی ہے جو خدا کے حکم کی نافرمانی کر کے حظ نفس کو پورا کرے اور کچھ دیر کے لئے اپنے نفس کو آرام دے لے۔ پر اگر اس وقت خدا کے خوف سے بدی سے بچ جاوے وے اور اس کے احکام کو نگاہ رکھے تو اللہ ایسے شخص کو لو وہ وہ ۔ موت دیتا ہے جو مسلمان کی موت ہوتی ہے۔ اگر وہ اس وقت مرے گا جب کہ مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ (القارعة :) یعنی جب اس کی تر از وزور والی ہوگی تو وہ با مراد ہو گا اور مسلمان کی موت مرے گا۔ ورنہ ہم نے دیکھا ہے کہ مرتے وقت عورتیں پوچھتی ہی رہتی ہیں کہ میں کون ہوں؟ دوسری کہتی ہے دس خاں میں کون ہوں؟ تیسری پوچھتی ہے دسو خاں جی میں کون ہاں اور اسی میں اس کی جان نکل جاتی ہے۔ الحکم جلدا انمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۷ء صفحه ۱۱) وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ۔ اب موت کا وقت تو معلوم نہیں ۔ بعض وقت انسان سوتا ہوتا ہی مرجاتا ہے اور مسلمان بننے کا موقع نہیں ملتا اس لئے آج سے ہی تیاری کر لو اور ہر وقت یہی سمجھو کہ موت قریب ہے تا تمہارا انتقال بحالت اسلام ہو۔ انسان جب کوئی نیکی شروع کرتا ہے تو ہر نیکی کا قول یا فعل یا عمل دوسرے نیک قول یا فعل یا عمل کو پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ گویا ایک نیکی دوسری نیکی کے