حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 97
حقائق الفرقان ۹۷ سُورَةُ آل عِمْرَان ہی خطرناک راہ ہے۔ مومنوں کی تعریف میں فرمایا ہے يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جنوبهم (ال عمران : ۱۹۲) اب جو بجائے ذکر اللہ کے مخلوق کے عیب بیان کرتا پھرے وہ مومن کیسا ہوا اور پھر اپنی غلطی پر اڑ جانا اور یہ سمجھنا کہ ہم نے خدا سے کوئی وعدہ لے لیا ہے اور بھی برا ہے۔ اپنی آنکھ کے شہتیر کو نہ دیکھنا اور دوسروں کی آنکھ کے تنکے کو گھنونی نظر سے دیکھنا اچھا نتیجہ نہیں رکھتا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مؤرخہ یکم و ۸ ر جولائی ۱۹۰۹ء صفحہ ۶۶ ) ١٠١ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا فَرِيقًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ يَرُدُّوكُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ كَفِرِينَ - ترجمہ۔ اے ایماندارو! اگر تم کہا مانو گے پادریوں کے گروہ کا تو وہ تم کو تمہارے ایمان کے بعد پلٹا دیں گے کافر ۔ تفسیر۔ اِن تُطِيعُوا۔ یعنی جیسے یہود وغیرہ چاہتے تھے کہ اسلام ، صاحب اسلام ، اصحاب اسلام کے اندر عیب تلاش کریں اور خود کتنے عیب دار ہوں مگر دوسروں کی معمولی خطا کو بھی گرفت کرنے سے نہ رہیں ۔ اسی طرز عمل پر اگر تم چلو گے تو کافر ہو جاؤ گے۔ یوں تو کوئی ایسا مسلمان نہیں ہوتا جو یہودیوں کا فرمانبردار بن جائے ۔ پس تُطِيعُوا کے معنے یہی ہیں کہ ان کے طرز عمل پر چلو گے۔ جیسے وہ عیب چینی کرتے پھرتے ہیں ایسے ہی تم کرتے رہو گے۔ تو اس کا نتیجہ اچھا نہ ہوگا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۶، ۳۷ مؤرخہ یکم و ۸ ر جولائی ۱۹۰۹ صفحہ ۶۶ ) ١٠٣ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ترجمہ۔ اے ایماندارو! اللہ کو بخوبی سپر بناؤ اور اس کی نافرمانی سے ڈرو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت اس مسلمانی طریقے کے سواکسی اور طریقے پر نہ ہو۔ تفسیر - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِہ ۔ مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو! تقوی اختیار کرو جیسا کہ تقوی اختیار کرنے کا حق ہے۔ تقوی کیا ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہے اور اس کے پہلوؤں ہے اور اس کا نتی ے کھڑے اور بیٹھے اور پڑے پڑے کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔