حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 96
حقائق الفرقان १५ سُورَةُ آل عِمْرَان ہم یقینی طور پر کہتے ہیں یہ سب ملے کی تعریف ہے۔ اگر نہیں تو بتاؤ مدیان اور عیفہ اور سبا کی اونٹنیاں کہاں جمع ہوتی ہیں۔ قیدار کی بھیڑیں اور مبیط کے مینڈھے کسی مذبح پر چڑھائے جاتے ہیں۔ عبری میں جس چیز کی زیادہ تعریف کرنا مطلوب ہوتا ہے اسے ملکہ اور عورت کر کے تعبیر کرتے ہیں۔ اگر انکار ہے تو دیکھو حز قیل ۱۶ باب الی آخرہ ۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۳۲۷ تا ۳۳۴) خدا تعالى غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ ۔ (ال عمران : (۹۸) ہے اس کا کسی کے ساتھ رشتہ نہیں ۔ وہ کسی خاندان، ملک یا آدمی کو بڑا بناتا ہے جب وہ بدیوں پر اتر آتے ہیں تو ایک آن میں ہلاک کر دیتا ہے۔ بغداد میں چودہ لاکھ اندر اور چار لاکھ باہر اٹھارہ لاکھ آدمی قتل کیا گیا تھا۔ ( بدر جلد ۱۴ نمبر ۴ مورخہ ۷ را گست ۱۹۱۳ ء صفحه (۳) ١٠٠ - قُلْ يَاهْلَ الْكِتَبِ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَ انْتُمْ شُهَدَاءُ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ - ترجمہ ۔ تم کہہ دواے اہل کتاب ! تم کیوں اللہ کے راستے سے روکتے ہوا ایمان داروں کو چاہتے ہو اس راہ کو ٹیڑھے رہ کر حالانکہ تم خود خبر دار ہو اور اللہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں۔ تفسیر ۔ تَبْخُونَهَا عِوَجًا کے معنوں میں میں نے بہت غور کیا ہے۔ بہت لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ عیب جوئی کی فکر میں لگے رہتے ہیں ۔ میں نے ایسی عادت والوں کو دیکھا ہے کہ وہ مرتے نہیں جب تک اسی گناہ میں گرفتار نہ ہو لیں جس کے لئے وہ دوسرے کی تحقیر کرتے ہیں اور لوگوں میں شور وفساد ڈالتے ہیں۔ اسلام ایک سیدھا اور سادہ مذہب ہے مگر تَبْغُونها یہ لوگ چاہتے ہیں اس کے لئے عوجا کہ کوئی عیب نکل آئے اور ایک معنی یہ ہیں کہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلام میں رہیں یعنی اللہ کی راہ پر قائم رہیں اور پھر اسی طرح ٹیڑھے کے ٹیڑھے بھی رہیں ۔ حقیقی تبدیلی کو پیدا نہیں کرتے۔ کیسا افسوس کا مقام ہے۔ ایک طرف اللہ کو راضی کرنے کا ارادہ ہے دوسری طرف عیب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہنا بہت