حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 92
حقائق الفرقان ۹۲ سُورَةُ آل عِمْرَان ترکیب آنے کی مقدس میں احبار ۱۶ باب ۔ ملا کی ۳ باب ۱۴ ۔ اور تیرے آگے سجدہ کریں گے۔ وے تیرے آگے منت کریں گے اور کہیں گے۔ یقیناً خدا تجھ میں ہے۔ یسعیا ۴۵۰ باب ۱۴ ۔ دعا بیت اللہ میں مقبول ہے۔ ۲۔ تاریخ کے باب ۱۵۔ دانیال اپنی کوٹھڑی کا دریچہ جو یروشلم کی طرف تھا کھول کر دن میں تین دفعہ گھٹنے ٹیک کر اور داؤ د بیت ایل کی طرف خدا کے حضور دعا اور شکر گزاری کرتے رہے۔ دانیال ۶ باب ۱۰۔ زبور ۹۹ - ۹ اور زبور ۱۳۸ ۔ ۲ ۔ حجر اسود کیا ہے؟ ایک بن گھڑا پتھر ہے۔ چونکہ گھڑے ہوئے پتھروں کی عبادت ہوتی تھی اس واسطے ابراہیم اور ان کی اولاد نے یادگار یا نشان کے لئے بن گھڑے پتھر رکھے تھے۔ پیدائش ۲۸ باب ۱۸۔ یعقوب نے پتھر کھڑا کیا اور اس پر تیل ڈالا اور پیدائش ۳۵ باب ۱۴ اور یشوع ۴ باب ۶،۵ ۔ ہر ایک تم میں سے بنی اسرائیل کے فرقوں کے مطابق ایک ایک پتھر اپنے کاندھے پر رکھے تو کہ تمہارے درمیان نشان ہو۔ پادری ان باتوں سے انکار نہیں کر سکتے ۔ پرانے زمانے میں کیا اس زمانے میں بھی تصویری زبان کا رواج ہے۔ اکثر آریہ ورت کے قصص تصویری زبان میں ہیں اور کئی اخباروں میں تصویری زبان معمول ہے۔ سکندر اور دارا کے قصے میں تصویری زبان کی گفتگو مشہور ہے ۔ عیسائی بھی تسلیم کرتے ہیں ۔ یشوع کے بارہ پتھر بارہ حواریوں کا اشارہ جانتے ہیں۔ یہودی قربانیاں مسیح بڑے کی پھانسی بتاتے ہیں بلکہ ختنہ بھی عیسی بن مریم کے قتل کا نشان کہتے ہیں۔ پولا ہلا نا جس کی نسبت احبار ۲۳ باب ۱۰ میں حکم ہے مسیح کا جی اُٹھنا بیان کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں متی ۲۱ باب ۳۳-۴۲ میں لکھا ہے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے آباد کیا۔ ایک باغ کا مہتم بنایا ( ایک شرع کا ) مگر انہوں نے نافرمانی کی یہاں تک کہ اپنے آخری صلح کار ( اکلوتے بیٹے ) کو مار ڈالا اس لئے خدا ان کو سزا دے گا۔ کونے کے پتھر سے جسے معماروں نے ناپسند کیا۔ یہی کوسزا مضمون یسعیاہ ۲۸ باب ۱۶ میں ہے اور دانیال ۲ باب ۳۴ میں ہے۔ یہود غیر قوموں کو بھی پتھر کہتے