حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۲) — Page 91
حقائق الفرقان ۹۱ سُورَةُ آل عِمْرَان بات رہ گئی ۔ مقدسہ کتب میں اجتماع کے لئے ترکی اور ناقوس کی ابدی رسم ہے۔ اسلام نے اس کے بدلے کہیں اذان کے لطیف کلمات اور حج میں ۔ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيكَ لَكَ توجّه إلى القبلة ۔ کے سچ ہے شک نہیں ۔ سجدہ پرلے درجے کا عجز اور نیاز ہے۔ یہ عمدہ فعل ضرور ہے کسی طرف واقع ہو اور کوئی طرف ہو اس میں مخلوق کا ہونا ضروری ہے اس لئے شارع نے خود ایک جہت مقرر کر دی جس میں کئی فائدے ہیں ۔ اوّل ۔ یہ اشارہ کہ سب کو چاہیے ایک دل ہو کر معبود حقیقی کی عبادت کریں۔ دوم اہل اسلام اور منافقین میں ما بہ الامتیاز ہو۔ اسی واسطے لگے میں آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور مدینے میں جب تشریف لائے تو بعد چند مدت کے مکے کی طرف توجہ فرمائی۔ قرآن خود اس ستر اور بھید سے آگاہ کرتا ہے جہاں فرماتا ہے۔ که وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ (البقرة: ۱۴۴) - سوم ۔ جماعت کے انتظام میں خلل نہ ہو اور تمام دنیا کے اہلِ اسلام یک جہت رہیں ۔ چہارم ۔ قبلے کی طرف منہ کرنا۔ ملّتِ ابراہیمی کا نشان اور ان کی اولاد کا معمول ہے۔ دیکھو یشوع اور سارے اسرائیلی بزرگوں نے اپنے کپڑے پھاڑے اور خداوند کے عہد کے صندوق کے آگے شام تک اوندھے پڑے رہے۔ یشوع کے باب ۶ ۔ ا۔ سلاطین ۸ باب ۲۸۔۴۸۔ ا حاضر ہوں اے میرے خدا حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے حاضر ہوں ۔ بے شک حمد اور نعمت اور ملک تیرے ہی لئے ہے ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ ۲ قبلے کی طرف منہ پھیروں سے اور نہیں کیا تھا ہم نے وہ قبلہ جس پر تو تھا مگر اس لئے کہ ظاہر ہو جاوے کہ کون رسول کے تابع ہے اس سے جو پھر جاتا ہے ایڑی پر۔