حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 87 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 87

حقائق الفرقان ۸۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة بسر اگر کامیابی کا خرچ کرنا ہے۔ہر ایک کام کے واسطے پہلے کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے پھر اتنا ہی نفع ہوتا ہے۔ریل بنائی جاتی ہے۔ایک میل پر ایک لاکھ روپے کے خرچ کا اندازہ ہوتا ہے۔جب یہ خرچ ہو چکتا ہے تو پھر آمدنی بھی کروڑوں کی ہوتی ہے۔البدر کلام امیر حصہ دوم مؤرخه ۱۰/ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۱ ۳۲۰) ۵- وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمُ يُوقِنُونَ - ترجمہ۔اور جو لوگ مانتے ہیں اس کلام کو جو تیری طرف اتارا گیا اور جو اتارا گیا تجھ سے پہلے لوگوں پر اور وہ پیچھے آنے والی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔تفسیر۔وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُونَ - پھر ان متقیوں کے لئے ہدایت ہے جو اس سے زیادہ ترقی کر کے اس وحی کو مانتے ہیں جو تیری طرف نازل ہوئی اور جو تجھ سے پہلے نازل ہوتی رہی اور آخری کی گھڑی پر بھی وہ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مؤرخه ۱۴ فروری ۱۹۰۹ صفحه ۳) یقین رکھتے ہیں۔مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ سے وہ سب وحی مراد ہے جو کہ خدا وند کریم نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہے خواہ وہ کسی رنگ میں ہو اور مَا أُنْزِلَ مِن قَبْلِكَ وہ كل وحی الہی ہے جو کہ گل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء پر نازل کی گئی اور گل اس لئے لیا ہے کہ ما کا لفظ جبکہ یہ موصولہ یعنی بمعنے جو ہو تو عام اور سب کو شامل ہوتا ہے لیکن چونکہ سب انبیاء کا ہم کوعلم نہیں جیسا کہ خداوندِ کریم نے فرمایا ہے وَمِنْهُمْ مَنْ لَّمْ نَقْصُصُ عَلَيْكَ (المومن:۷۹ ) ( اور بعض انبیاء سے وہ ہیں جو کہ ہم نے تیرے آگے بیان نہیں کئے ) تو پھر جو کچھ ان پر اُتارا گیا ہے اس کا ہمیں کب علم ہو سکتا ہے؟ پس لفظ ما کو موصولہ یعنی بمعنے جو قرار نہیں دینا چاہیے اس کو مصدر یہ قرار دیا جائے یعنی جو کہ مابعد کے فعل کو مصدر بنادیتا ہے جس سے فعل اور باقی اسماء بنائے جاتے ہیں تا کہ ترجمہ یہ ہو جائے اور جو ایمان لاتے ہیں تیری طرف اُتارے جانے پر اور تجھ سے پہلے اُتارے جانے