حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 86
حقائق الفرقان ۸۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة أوليكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہ لوگ مظفر و منصور ہو جائیں گے۔دنیا میں بامراد اور کامیاب ہونے کا یہ زبر دست ذریعہ ہے اور اس کا ثبوت موجود ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی لائف پر نظر کرو ان کی کامیابیوں اور فتح مندیوں کی اصل جڑ کیا تھی؟ یہی ایمان اور اعمالِ صالحہ تو تھے ورنہ اس سے پہلے وہی لوگ موجود تھے، وہی اسباب تھے، وہی قوم تھی لیکن جب ان کا ایمان اللہ تعالیٰ پر بڑھا اور ان کے اعمال میں صلاحیت اور تقوی اللہ پیدا ہو ا تو خدا تعالیٰ کے وعدوں کے موافق وہ دنیا میں بھی مظفر و منصور ہو گئے تاکہ ان کی اس دنیا کی کامیابیاں آخرت کی کامیابیوں کے لئے ایک دلیل اور نشان ہوں۔یہ نسخہ صرف کتابی نسخہ نہیں ہے بلکہ ایک تجربہ شدہ اور بارہا کا آزمودہ نسخہ ہے جو اسے استعمال کرتا ہے وہ یقینا کامیاب ہوگا اور منعم علیہ گروہ میں داخل ہو جاوے گا۔پس اگر تم چاہتے ہو کہ بامراد ہو جاؤ، تم چاہتے ہو کہ منعم علیہ بنوتو دیکھو! اس نسخہ کو استعمال کرو۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹ مورخه ۱۰ جون ۱۹۰۴ صفحه ۸) الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ۔اس آیت شریفہ میں کامیابی کے تین اصول بتلائے گئے ہیں۔ایمان بالغیب، د کھا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔دراصل ہر ایک کام جس کو انسان اختیار کرے اس میں انسان تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے جبکہ یہ تین کام کرے۔سب سے اوّل غیب سے کام لیا جاتا ہے۔تمام ریاضی کی بنیاد غیب پر ہے۔نقطہ، دائرہ اور خط سب فرضی ہوتے ہیں اور اسی پر سب ریاضی کا علم بنتا ہے۔علم حساب بھی فرضی باتوں سے شروع ہوتا ہے۔لڑکوں کو سوال حل کرنے کے لئے دیا جاتا ہے کہ ایک شخص کے پاس دس ہزار روپیہ ہے۔وہ تجارت کرتا ہے اس بھاؤ خریدتا ہے اُس بھاؤ بیچتا ہے۔بتلاؤ کیا منافع ہوگا۔یہ سب فرضی باتیں ہیں نہ کوئی شخص ہے، نہ کچھ روپیہ ہے، نہ کوئی تجارت ہے لیکن اسی سے بچہ بڑا حساب دان بن جاتا ہے۔پولیس بھی غیب سے کام چلاتی ہے۔اس کو پکڑو، اس کی تلاشی لو، آخر مقدمہ نکل ہی آتا ہے۔ایسا ہی دعا اور توجہ ہے۔میری تحقیق ہے کہ جو شخص ہدایت کے واسطے دعا نہیں مانگتا وہ کبھی فائدہ نہیں اُٹھاتا۔