حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 85 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 85

۸۵ سُورَةُ الْبَقَرَة حقائق الفرقان در انصار نبی بنگر ، که چون شد کار تا دانی که از تائید دین، سر چشمه دولت شود پیدا له بجواز جان و دل تا خدمتے از دست تو آید بقائے جاوداں یا بی ، گر ایں شربت شود پیدا ہے البدر جلد ۲ نمبر ۱، ۲ مورخه ۳۰/۲۳ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۶) دوسری بات جو سکھائی گئی ہے منکم علیہ بننے کے واسطے وہ شفقت علی خلق اللہ ہے یعنی مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرۃ: ۴ ) اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرتے رہو۔یہاں کوئی چیز مخصوص نہیں فرمائی بلکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو۔۔۔۔اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو خدا کے لئے مخلوق کی ہمدردی اور بھلائی میں خرچ کرو اور ایسا ہی اگر اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے، کپڑا دیا ہے ، غرض جو کچھ دیا ہے اسے مخلوق کی ہمدردی اور نفع رسانی کے لئے خرچ کرو۔میں دیکھتا ہوں کہ اکثر لوگ نئے کپڑے بناتے ہیں لیکن وہ پرانے کپڑے کسی غریب کو نہیں دیتے بلکہ اسے معمولی طور پر گھر کے استعمال کے لئے رکھ لیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ اگر کسی کو خدا کے فضل سے نیا ملتا ہے اور خدا تعالیٰ نے اسے اس قابل بنایا ہے کہ وہ نیا کپڑا خرید کر بنالے تو وہ کیوں پڑا نا اپنے کسی غریب اور نادار بھائی کو نہیں دیتا؟ اگر نیا جوتا ملا ہے تو کیوں پرانا کسی اور کو نہیں دے دیتے ہو؟ اگر اتنی بھی ہمت اور حوصلہ نہیں پڑتا تو پھر نیا دینا تو اور بھی مشکل ہو جائے گا۔خدا تعالیٰ نے تعمیل ایمان کے لئے دو ہی باتیں رکھی ہیں تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ۔جو شخص ان دونوں کی برابر رعایت نہیں رکھتا وہ کامل مومن نہیں ہو سکتا۔کیا تم میں سے اگر ایک ہاتھ ایک ٹانگ کسی کی کاٹ دی جاوے تو وہ نقصان نہ اُٹھاوے گا اسی طرح پر ایمان کا بہت بڑا جزو ہے شفقت علی خلق اللہ۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس پر زیادہ توجہ ہی نہیں رہی اور یہی وجہ ہے کہ ایمان کا پہلا جز وتعظیم لامر اللہ بھی نہیں رہی ہے۔۔۔۔جب انسان اس قسم کا بن جاتا ہے کہ الغیب پر ایمان لاتا ہے اور خدا کی عبادت کرتا اور اُس کی مخلوق پر شفقت کرتا ہے پھر خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ہم اس کا بدلہ کیا دیں گے؟ اے آنحضرت کے انصار کی طرف دیکھ کہ کس طرح انہوں نے کام کیا تا کہ تجھے پتہ لگے کہ دین کی مدد کرنے سے دولت کا منبع پیدا ہو جاتا ہے۔۲ دل و جان سے کوشش کرتا کہ تیرے ہاتھوں سے کوئی خدمت اسلام ہو جائے اگر یہ شربت پیدا ہو جائے تو تو بقائے دوام حاصل کرلے گا۔( ناشر )