حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 81
حقائق الفرقان ΔΙ سُوْرَةُ الْبَقَرَة عنصری وکونی صفات سے اعلیٰ اور مبرا ہے۔کوئی جہت نہیں جس میں وہ مقید ہو۔کوئی خاص مکان نہیں جس میں مخصوصا وہ رہتا ہو۔اسی مطلب کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے اور معترض کے اعتراض کو اپنے علم بسیط سے پہلے ہی رڈ کر دیا ہے۔وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَتُوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ (البقرة :١١٢) پھر اور زیادہ مقصود حقیقی کی راہ بتاتا اور فرماتا ہے۔لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالكتب وَالشَّهِينَ وَأتَى الْمَالَ عَلَى حُبّهِ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتْلَى وَالْمَسْكِينَ وَ ابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَ فِي الرِّقَابِ وَ أَقَامَ الصَّلوةَ وَأَتَى الزَّلْوةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَهَدُوا وَالصُّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ أُولَبِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ۔(البقرة: ۱۷۸) ان آیات نے صاف بتادیا کہ سمت قبلہ کی جانب توجہ کرنا مقصود بالذات اور اہم نہیں ہے۔اصلی اور ابدی نیکیاں اور آسمانی خزانے میں جمع ہونے والی خوبیاں یہی ہیں جو ان آیات میں مذکور ہوئیں۔ایک اور لطیف بات قابل غور ہے کہ آغاز نماز میں جبکہ مسلمان رو بقبلہ کھڑا ہوتا ہے یہ آیت پڑھتا ہے۔إنِّي وَجَهتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّبُوتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ - - (الانعام: ۸۰) لے اور اللہ کی ہے مشرق اور مغرب سو جس طرف تم منہ کرو وہاں ہی متوجہ ہے اللہ۔۱۲ - ۲ نیکی یہی نہیں کہ منہ کرو اپنے مشرق کی طرف یا مغرب کی ولیکن نیکی وہ ہے جو کوئی ایمان لاوے اللہ پر اور پچھلے دن پر اور فرشتوں پر اور کتابوں پر اور نبیوں پر اور دیوے مال اس کی محبت پر ناطے والوں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور راہ کے مسافر کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں اور کھڑی رکھے نماز اور دیا کرے زکوۃ اور پورا کرنے والے اپنے اقرار کو جب پورا کریں اور ٹھہرنے والے تختی میں اور تکلیف میں اور وقت لڑائی کے وہی لوگ ہیں جو بچے ہوئے اور وہی بچاؤ میں آئے۔۱۲۔۳ میں نے اپنا منہ کیا اس کی طرف جس نے بنائے آسمان اور زمین ایک طرف کا ہو کر اور میں نہیں شریک کرنے والا۔۱۲