حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 80 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 80

حقائق الفرقان ۸۰ سُورَةُ الْبَقَرَة ربانی الہامی تدبیر سے قریش مکہ جو نہایت بہت پرست تھے اور اہلِ کتاب اور ان کے مذاہب کو بہت بُرا جانتے تھے مسلمانوں کی جماعت سے بالکل الگ ہو گئے۔ اب کوئی منافق ظاہر طور پر بھی شامل ہونے کو گوارا نہ کر سکا اور خاص مکے میں بجز خالص مخلص اصحاب اور یارانِ جاں نثار کے اور کوئی پیرو نہ بنا۔ اس تدبیر سے ایک اور عظیم فائدہ یہ ہوا کہ بانی کو اپنے مشن کی ترقی اور خالص پیروؤں کا اندازہ معلوم ہو گیا اور آئندہ کے واسطے معتمد وفاداروں اور غدار منافقوں میں امتیاز گلتی ہو ں گیا۔ پھر جب مدینے میں آپؐ تشریف لے گئے جہاں بکثرت یہود رہتے تھے اور جو اوّل اوّل باغراض مختلفہ آپ کی تشریف آوری سے خوش ہوئے اور آپ کے تابعین میں خوب مل جل گئے ۔ پھر آخر اپنی امیدوں کے برخلاف دیکھ کر خفیہ خفیہ اضرار و افساد میں ریشہ دوانی کرنے لگے۔ تب آنحضرت نے ربانی الہامی ہدایت سے، جو ایسے تاریک وقتوں میں اپنے پاک نبیوں کو کشائش کی راہ دکھاتی ہے، اصلی قدیمی ابراہیم ، اسمعیل کے بیت اللہ کی طرف نماز میں تو جہ کی ۔ اس سے خالص انصار اور غدار یہودیوں میں امتیاز کی راہ نکل آئی ۔ قرآن بھی اسی مطلب کا اشارہ کرتا ہے۔ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ - (البقرة: ۱۴۴) ۱۴ اس بات کو بھولنا نہیں چاہیے کہ ایسی جدید قوم کو جس کے استیصال کے درپے مختلف قو میں ہو رہی تھیں ایسے نئے مذہب کو جس او لا مخلصین و منافقین میں تمیز کرنا اور دشمنوں کے جابرانہ حملوں کا اندفاع اختیار کرنا تھا نہایت ضرور تھا اور عقلاً ، نقلاً اس سے بہتر نہیں ہو سکتا تھا کہ ایسی ہی تدبیر سے کام لے۔ پس گوابتداء میں سمت قبلہ کسی مصلحت کے لئے معین کی گئی ہو اور عادۃ اللہ نے اس میں کوئی راز مرکوز رکھا ہو مگر انتہا میں بھی یادگار کے طور پر اور اس امر کے نشان اور یاد آوری کے لئے کہ یہ کامل مذہب ، یہ توحید کا آفتاب اُسی پاک زمین زمین سے نمودار ہوا ۔ وہ خداوندی حکمت بحال رکھی گئی ور نہ اہل اسلام کا عقیدہ تو یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ذات مکان اور جہت کی قید سے منزہ ہے اور لے اور وہ قبلہ جو ہم نے ٹھہرایا جس پر تو تھا نہیں مگر اسی واسطے کہ معلوم کریں کون تابع ہے رسول کا اور کون پھر جاوے گا الٹے پاؤں ۔ ۱۲