حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 79
حقائق الفرقان ۷۹ سُورَةُ الْبَقَرَة ہر ایک مسلمان کو یقین ہے کہ مکے میں بیت اللہ کو توحید کے ایک بڑے واعظ نے تعمیر کیا اور آخری زمانے میں اسی کی اولاد میں سے ایک زبردست کامل نبی مکمل شریعت لے کر ظاہر ہوا جس نے اس پہلی تلقین و تعلیم کو پھر زندہ اور کامل کیا۔ پس نماز میں جب ادھر رُخ کرتے ہیں یہ تمام تصور آنکھوں میں پھر جاتے ہیں اور اس مصلح عالم کی تمام خدمات اور جاں فشانیاں جو اس نے اعلائے کلمة اللہ میں دکھلائیں یاد آ جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ نماز علاوہ ان تمام خوبیوں کے جو اس پر مداومت کا لازمی نتیجہ ہیں بڑا بھاری قومی امتیاز اور نشان ہے۔ روزہ ، حج ، زکوۃ وغیرہ میں ایک منافق مسلمانوں کو دھوکا دینے یا ان کے رازوں پر مطلع ہونے کے لئے شامل ہو سکتا ہے اور اس کی قوم کو اس پر اطلاع بھی نہ ہو کیونکہ ان امور کی بجا آوری میں اپنی قوم کے نزدیک وہ کسی بیماری لزوم ، فاقہ، سفر و تفرج یا خیرات کا حیلہ تراش سکتا ہے اور مسلمان بھی اُسے بے تردد و فادار مسلمان کہہ سکتے ہیں بشرطیکہ انہیں اُمور میں مسلمان ہونا محصور ہو۔ مگر سخت مشکل اور پردہ برانداز امر نماز ہے جسے کوئی شخص بھی جو اپنے مذہب کا کچھ بھی پاس اور ہیبت دل میں رکھتا ہو کبھی بھی ادا کرنا گوارا نہیں کر سکتا خصوصا ایک علیحدہ قومی نشان اور ایک بالکل الگ ہیئت میں الگ مذہبی سمت کی طرف متوجہ ہو کر اور بایں ہمہ اپنی قوم میں بھی شامل رہے ناممکن ہے۔ اب غور فرمائے آنحضرت کو اس خصوص میں کیا مشکلات پیش آئیں ۔ تاریخ اور قومی روایت متفقاً شہادت دیتی ہے کہ بیت اللہ زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے برابر ابا عَنْ جَد قوموں کا مرکز اور جائے تعظیم چلا آیا ہے۔ کفار مکہ گو بت پرستی کے لباس میں تھے اس بیت ایل کو مقدس عبادت گاہ یقین کرتے۔ جب آنحضرت نے دین حق کا وعظ شروع فرمایا اور خدا کا کلام دن بدن پھیلنے لگا اور دشمنان دین مخالفت میں ہر طرح کے زور لگا کر تھک گئے آخر یہ حیلہ سوچا کہ نفاقا اسلام میں داخل ہو گئے اور اس طرح وہ لوگ سخت سخت اذیتیں اور مخفی دیر پا مصائب مسلمانوں کو پہنچانے لگے بناءً على هذا - بانی مذہب کو ضرور ہوا کہ اس معجون مرکب کے اجزا کی تحلیل کے لئے کوئی بھاری کیمیاوی تجویز نکار عویز نکالے۔ آپ نے ا نے ابتداء مکے میں بیت المقدس کی جانب نماز میں منہ پھیرا۔ اس