حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 78
حقائق الفرقان ZA سُوْرَةُ الْبَقَرَة میں اس فاران میں جہاں سے اولا نور توحید چمکا۔کل اقطار عائم کے خدا دوست حاضر ہوں ساری بچھڑی ہوئی متفرق امتیں اسی دنگل میں اکٹھی ہوں۔وہاں نہ اس مٹی اور پتھر کے گھر کی بلکہ اس رب الا رباب معبود الگل کی جس نے اس ارضِ مقدسہ سے توحید کا عظیم الشان واعظ بے نظیر ہادی نکالا حمد وستائش کریں۔اسی طرح ہر سال اس یادگار ( بیت اللہ ) کو دیکھ کر ایک نیا جوش اور تازہ ایمان دل میں پیدا کریں جو بحسب تقاضائے فطرت ایسی یادگاروں اور نشانوں سے پیدا ہو ناممکن ہے۔سخت جہالت ہے اگر کوئی اہل اسلام کسی موحد قوم کو مخلوق پرستی کا الزام لگاوے۔ایسے شخص کو انسانی طبیعت کے عام میلان اور جذبات کو مد نظر رکھ کر ایک واجب القدر امر پر غور کرنا چاہیے کہ اگر قرآن کے پورے اور خالص معتقدین کے طبائع میں بت پرستی ہوتی تو ان کو اپنے ہادی منجی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مقدسہ سے بڑھ کر کونسا مرجع تھا۔اللہ تعالیٰ نے مکہ معظمہ میں آنحضرت کا مرقد مبارک نہیں ہونے دیا تا کہ توحید الہی کا سرچشمہ پاک ہر قسم کے شائیوں اور ممکن خیالات کے گردوغبار سے پاک صاف رہے اور مخلوق کی فوق العادت تعظیم کا احتمال بھی اُٹھ جائے۔مسلمانوں کے ہادی علیہ الصلوۃ والسلام کی آخری دُعا اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِى مِنْ بَعْدِى عِيْدًا اے اللہ ! میری قبر کو میرے بعد عید نہ بنائیو۔خوب یاد ہے اور وہ بجان و دل اپنے نبی کی اس دُعا کے ظاہر نتیجے کی تصدیق کر رہے ہیں اور ہمیشہ أَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا الله کے ساتھ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ پڑھ کر اللہ اور عبد میں امتیاز بین دکھلاتے ہیں۔بہت صاف امر ہے اور حقیقت شناس عقل کے نزدیک کچھ بھی محل اعتراض نہیں۔اُس بادی کو جس نے تمام دنیا کی متداولہ عبادت کے طریقوں سے جن میں شرک اور مخلوق پرستی کے جزو اعظم شامل تھے اپنے طریق عبادت کو خالص کرنا منظور تھا اور ایک واضح وممتاز مسلک قائم کرنا ضرور اس لئے واجب ہوا کہ وہ اپنی امت کے رُخ ظاہر کو بھی ایسی سمت کی طرف پھیرے جس میں قوائے روحانی کی تحریک اور اشتعال کی قدرت و مناسبت ہو۔