حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 77
حقائق الفرقان 22 سُوْرَةُ الْبَقَرَة بے اختیار جذب و میلان اس ڈیوٹی کے ادا کرنے کے لئے پیدا ہو جاتا ہے اور روحانی قومی اس مفروض عمل کی طرف طوعا و کر با منجذب ہو جاتے ہیں۔جو نہی اس غیر مصنوعی ناقوس (اذان) کی آواز سنائی دیتی ہے ایک دین دار مسلمان فی الفور اس ایلیکٹر یسیٹی کے عمل سے متاثر ہو جاتا ہے۔پابندِ صلوۃ گویا ہر وقت نماز ہی میں رہتا ہے کیونکہ ایک نماز کے ادا کرنے کے بعد معا دوسری نماز کی تیاری اور فکر ہو جاتی ہے۔نماز پنجگانہ کا باجماعت پڑھنا اور جمعہ وعیدین کی اقامت جس حکمت کے اصول پر مبنی ہیں انتظامات ملکی کا دقیقہ شناس اس کی خوبی سے انکار نہیں کر سکتا۔ہزاروں برسوں کے دور کے بعد جو دنیا نے ترقی کی اور چاروں طرف غلغلہ تہذیب بلند ہوا اس سے بڑھ کر اور کوئی تجویز کسی کی عقل میں نہ آئی کہ کلب بنائے جائیں انجمنیں منعقد ہوں اور وقت کی ضروریات کے موافق قوم کو بیدار کرنے والی تقریریں کی جائیں لیکن ظاہر ہے کہ بایں ہمہ ترقی علوم ایسی انجمنوں کے قیام و استحکام میں کس قدر دقتیں واقع ہوتی ہیں۔مگر مبار کی ہو اس افضل الرسل خاتم الرسالۃ کو کہ اس نے کیسے وقت میں کیسی انجمنیں قائم کیں! ان کے قیام و استحکام کے کیا کیا طریقے نکالے جنہیں کوئی مزاحم کوئی مانع تو ڑ نہیں سکتا۔اعضائے انجمن کے اجتماع کے لئے ٹکٹ جاری کئے جاتے ہیں۔اشتہار چھاپے جاتے ہیں۔اس الہی طریق میں وقت معین پر اذان دی جاتی ہے جو اس پاک انجمن ( مسجد ) میں پہنچائے بغیر چھوڑ ہی نہیں سکتی۔قرب و جوار کے لوگوں کا ہر روز پانچ مرتبہ ایک جگہ میں جمع ہونا اور پھر شانے سے شانہ جوڑ اور پاؤں سے پاؤں ملا کر ایک ہی بچے معبود کے حضور میں کھڑا ہونا قومی اتفاق کی کیسی بڑی تدبیر ہے! ساتویں دن جمعہ کو آس پاس کے چھوٹے قریوں اور بستیوں کے لوگ صاف و منظف ہو کر ایک بڑی جامع مسجد میں اکٹھے ہوں اور ایک عالم بلیغ تقریر ( خطبہ ) حمد ونعت کے بعد ضروریات قوم پر کرے۔عیدین میں کسی قدر دُور کے شہروں کے لوگ ایک فراخ میدان میں جمع ہوں اور اپنے ہادی کی شوکت مجسم کثیر جماعت بن کر دنیا کو آفتاب اسلام کی چمک دکھاویں اور بالآخر اس پاک سرزمین