حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 72
حقائق الفرقان ۷۲ سُورَةُ الْبَقَرَة جب ہم نے اتنا ثابت کر دیا کہ قلبی حالت اعضاء و جوارح کو حرکت دیئے بغیر رہ نہیں سکتی اور یہ کہ ظاہر و باطن میں لازم و ملزوم کی نسبت ہے تو گو یا نفس ارکانِ نماز سے کچھ بحث نہیں کیونکہ جذبات قلب اور اس کی واردات کا ظہور اور کیفیت روحانی کے عروض کا ثبوت اعضاء و جوارح کی زبان حال ہی سے مل سکتا ہے البتہ گفتگو اس امر میں رہ جاتی ہے کہ آیا یہ ہیئت مقتضائے فطرت انسانی سے مناسبت رکھتی ہے یا نہیں یا اس سے بڑھ کر اور پسندیدہ صورت و ترکیب فلاں قانون اور فلاں مذہب میں رائج ہے یا اب نئی صورت وہم و تصور میں آ سکتی ہے۔ میں بڑی جرات اور قوی ایمان سے کہتا ہوں کہ اس کی مثال یا اس سے بڑھ کر مقبول و مطبوع صورت نہ تو کسی مذہب میں رائج ہے اور نہ اور نئی عقل میں آ سکتی ہے۔ یہ جامع مانع طریق ان تمام عمدہ اصولوں اور مسلّمہ خوبیوں کو حاوی ہے جو دنیا کے اور مذاہب میں فرداً فرداً موجود ہیں اور تمام ان نیازمندی کے آداب کو شامل ہے جو ذو الجلال معبود کے عرشِ عظیم کے سامنے قوائے انسانی میں پیدا ہونے ممکن ہیں۔ وہ خاص اوراد و کلمات جو اس مجموعی ترکیب کے اجزا ۔ قومہ، رکوع ، قعدہ سجود، جلسے وغیرہ میں زبان سے نہیں دل سے نکالے جاتے ہیں اس کی بے نظیری کے کافی ثبوت ہیں۔ انصاف سے سوچئے! کہ یہ ہیات قوائے قلبی پر کس قدر قوی اثر کرنے والی ہے۔ تعیین ارکان سے کون قوم انکار کر سکتی ہے۔ دعا میں سر ننگا کرنا، سیدھا کھڑا ہونا، آنکھیں بند کرنا، آخر میں برکت دیتے وقت ایک ہاتھ لمبا کرنا اور ذرا انگلیوں کو نیچے کی طرف جھکانا اور کبھی کبھی خاص حالت میں گھٹنے ٹیکنا یا گھٹنے پر کہنی ٹکا کر اُس پر سر رکھ دینا۔ یہ سب امور بتفاوت نصاری میں معمول ہیں۔ کوئی انہیں کہے ان ظاہری رسوم سے کیا نکلتا ہے عبادت دل سے تعلق رکھتی ہے اسی پر اکتفا کرنا چاہیے صاف بات کا وہ کیا جواب دیں گے؟ پس اسلامی صورت سے کیوں چڑتے ہیں؟ مجھے امید ہے کہ نصارای نفس وجود ارکان سے تو کچھ تعرض نہ کریں گے کیونکہ اس طبعی حالت میں وہ اضطراراً اہل اسلام کے ساتھ شریک کر دیئے گئے ہیں۔ بایں معنی کہ وہ بھی دعا یا نماز میں کسی نہ کسی صورت وڑکن کا ہونا تو ضرور تسلیم کرتے ہیں ۔ اگر زبان سے اور مذہبی مباحث کے وقت نہیں