حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 71
حقائق الفرقان ا سُورَةُ الْبَقَرَة دونوں حالتوں میں اس آسان شریعت نے تیم کر لینے کا حکم دیا ہے جس سے مقصود اتنا ہے کہ اعضائے ظاہری کا جرس بجا کر قوائے باطنی کے غافل قافلے کو بیدار اور بر سر کار کیا جائے ۔ یہ ناپاکی اور پاکی ( طہارت ) کا لفظ اور اس کا مفہوم اسلام میں ایسا نہیں برتا گیا جیسا وسوسہ ناک طبائع اور وہمی مزاجوں کے درمیان معمول ہوا ہے کہ انسان کی ذات میں کوئی ایسی نجاست نفوذ کر گئی ہے جس نے اس کو گھنونا اور لوگوں کے پرہیز و اجتناب کا محل بنا دیا ہے اور جس کا ازالہ سوائے اس ظاہری طہارت کے ہو نہیں سکتا۔ میں سچ سچ تمہیں بتاتا ہوں کہ اسلام ان تو ہمات سے بالکل پاک ہے۔ احبار ۱۵ باب ۸ اور ۱۸ باب ۱۵ میں ہے کہ ” جریان والا کپڑے دھو دے اور غسل کرے۔ شام تک نا پاک ہے اور جس پر وہ سوار ہو اور جو کوئی اس کی سواری کو چھوئے وہ بھی نا پاک “ اور خروج ۱۹ باب ۱۰ ” اور خدا نے موسیٰ سے کہا کہ لوگوں کے پاس جا اور انہیں پاک کر اور ان کے کپڑے دھلوا اور تیسرے دن تیار رہیں کہ خداوند تیسرے دن لوگوں کی نظر میں کوہ سینا پر اتر آئے گا۔“ اسلامی شریعت کے احکام سے انہیں مقابلہ کر لو صاف کھل جائے گا۔ اسلامی شریعت نے روحانیت کی کیسی توجہ دلائی ہے۔ ذرا رنگ یا پانی چھڑ کنا اور چلو بھر میں کفارے والی بادشاہت میں داخل ہونے کی شرط قرار دی گئی ہے اس پر رسوم ظاہری سے انکار ! قرآن سنیں ۔ اس کے مقابل میں کیا فرماتا ہے:۔ صِبْغَةَ اللَّهِ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً (البقرة : ١٣٩) یہی اعتقاد قدیم سے مسلمانوں میں چلا آیا ہے کہ طہارت باطنی ہی راساً مطلوب ہے چنانچہ اسلام کے قدیم فلاسفر امام غزالی نے ان لوگوں کی نسبت جو صرف ظاہری طہارت پر مرتے ہیں اور مایا کرتے تھے جن کے قلوب کبر دریا سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں کہ ہیں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلعم فرما یا کر ۔ کہ سب سے اہم اور اعظم طہارت پاک کر نا دل کا ہے تمام بری خواہشوں اور بیہودہ رغبتوں سے اور دفع کرنا ہے نفس سے تمام مکروہ و مذموم خیالات کو اور ان تصورات کو جو انسان کے دل کو خدا کی یاد سے باز رکھتے ہیں ۔ لے رنگ اللہ کا اور کس کا رنگ اللہ سے بہتر ہے۔ (ناشر)