حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 70 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 70

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة قساوت قلبی اور بداخلاقی کے سوا کوئی نتیجہ ان کے اعمال و افعال پر مترتب نہیں ہوا۔اس کی وجہ صرف یہ ہوئی کہ انہوں نے ظاہر ہی کو مقصود بالذات اور قبلہ ہمت ٹھہرا لیا۔یا ان کے پاس کوئی روحانی شریعت نہ تھی جو مجاز سے حقیقت کی طرف ان کو لے جاتی مگر اس سے نفس فعل طہارت قبیح یا مستوجب ملامت نہیں ٹھہرتا۔اس عملی افراط و تفریط کے اور ہی موجبات اور بواعث ہیں۔ہمیں اس وقت اور قوموں کے رسوم سے تعرض کی ضرورت نہیں اس وقت ہم اسلامی طہارت ( وضو ) کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ غیر قوموں نے اسلامی اعمال پر انصاف سے غور نہیں کیا۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمانوں نے ، ہاں محمد رسول اللہ صلعم کی سنت پر چلنے والوں نے ہرگز ظاہری طہارت میں خوش نہیں کیا۔وہ اسی کو مقصود بالذات نہیں سمجھتے کیونکہ ایک پیچھے آنے والے جلیل الشان حقیقی فعل نماز کا یہ عمل مقدمہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ یہ عمل تو صرف نشان یا دلیل دوسرے امر کی ہے۔وضو میں مسلمانوں کو جو دعا پڑھنے کی نصیحت کی گئی ہے یقینا معترض کو راہ حق پر آنے کی ہدایت کرتی ہے۔سنواورغور کرو! وَهُوَ هذَا: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ سُفْنَكَ اللَّهُمْ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا أَنْتَ اسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ غسل جنابت میں بھی یہی دعا مانگی جاتی ہے اور بعد اس دعا کے یہ فقرہ کہا جاتا ہے اب غسل پورا ہوا“۔یعنی ظاہر باطن سے مل کر پورا ہوا۔یا د رکھنا چاہیے کہ عذر اور ضرورت کے وقت یہ طہارت ساقط ہو جاتی ہے۔یہ کافی دلیل اس امر کی ہے کہ عمل بھی صرف مقصود بالعرض ہے۔مثلاً پانی نہ ملنے کی صورت میں غسل اور وضو لے اے اللہ! مجھے اپنی طرف خالص رجوع کرنے والوں سے بنا اور مجھے پاک رہنے والوں کی جماعت میں شامل کر۔اے اللہ ! تو قدوس ہے تیری حمد ہی میں دل سے شہادت دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع لاتا ہوں۔۱۲