حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 69
حقائق الفرقان ۶۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس فیاض مطلق کی حمد و سپاس کے قلبی زبر دست اثر کوظاہر کیا ہے۔خارجی بد آثاری اور عوارض کو چھوڑ دو۔اصلی بے رنگ و بے لوث فطرت پر غور کرو تو تمہیں دُنیا کی قوموں میں رنگارنگ حرکات دکھائی دیں گے جو بائیں ہمہ رنگارنگی کیسے اس بے رنگ کا معبود و مسجود ہونا ثابت کر رہے ہیں! اس بیان سے صرف اس قدر مقصود ہے کہ ہر قوم کے نزدیک کوئی نہ کوئی طریق معبود حقیقی کی یاد کا ضرور ہے جس کو وہ لوگ اپنی نجات کی دستاویز سمجھتے ہیں اور یہ کہ عقائد باطنی کے حسن و قبح کی تصویر اعضاء وجوارح کے آئینے میں دیکھی جاسکتی ہے۔ہر قوم میں جوش قلبی کی تحریک اور اس کی آگ بھڑ کانے کے لئے کئی ایک ظاہری اعمال کا التزام پایا جاتا ہے مثلاً بدن کو پانی سے طاہر کرنا، کپڑا صاف رکھنا، مکان لطیف و نظیف رکھنا۔ظاہری صفائی اور حسبِ فطرت اصلاح بدن سے بے شک اخلاق پر قومی اثر پڑتا ہے۔نجاست، گندگی، ناپاکی ، چرک، غچلا پن سے کبھی وہ علو ہمت ، بلند حوصلگی، پاکیزگی اخلاق پیدا نہیں ہوسکتی جو واجبی صفائی اور طہارت کا لازمی نتیجہ ہے۔بدیہی بات ہے کہ ہاتھ منہ دھونے وغیرہ افعال جوارح سے حتماً ایک قسم کی بشاشت اور تازگی عقلی قولی میں پیدا ہوتی ہے۔علی الصباح بستر غفلت سے اُٹھ کر بدنی طہارت کی طرف متوجہ ہونا تمام مہذ بین بلاد میں ایک عام لازمی عادت ہے۔صاف عیاں ہوتا ہے کہ تقاضائے فطرت سے اس کے زور و اجبار سے یہ دائمی عادات پیدا ہوئے ہیں اور طبیعت اعضاء و جوارح سے جبراً اس خدمت کا لینا پسند کرتی ہے۔پس اگر ایسی عبادت میں جس میں روحانی جوشوں اور اصلی باطنی طہارت کا اظہار مقصود ہو ایسی طہارت ظاہری کو لازمی اور لا بدی کر دیا جاوے تو کس قدر اس شوق و ذوق کو تائید ہوگی۔صاف واضح ہے کہ جہاں فانی طہارت اور ظاہری صفائی کا حکم ہو گا وہاں باطنی طہارت اور باطنی صفائی کی کتنی اور زیادہ تاکید ہوگی۔غرض اِس میں شک نہیں کہ صفائی ظاہر کی طرف طبعا ہر قوم متوجہ ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ نہایت بد بخت سیاه دروں ہیں جو صرف جسمانی صفائی اور ظاہری زیب وزینت کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔یقینا بہت سے انہیں ظاہری رسوم کی پابندی اور انہیں فانی قیود میں ایسے الجھے ہیں کہ