حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 68
حقائق الفرقان ۶۸ سُورَةُ الْبَقَرَة پس یہ تصورات انسان کے دل میں ضرور سخت جوش اور عجیب جذبات پیدا کرتے ہیں اور دلی نیاز بڑی شکرگزاری کے ساتھ مل کر اس کو اس منعم ومحسن کی ستائش وحمد کی طرف مائل کرتا ہے اور جس قدر زیادہ اس کو اپنی احتیاج و افتقار کا علم اور فوق القدرت سامانوں کے بہ آسانی بہم پہنچ جانے کا یقین ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ اس کا دل اس منعم کے احسانات کی شکرگزاری سے بھر جاتا ہے۔ یہی دلی نیاز اور قلبی شکرگزاری جو سچی محبت اور باطنی اخلاص سے ناشی ہوتی ہے اور یہی جوش و خروش جو انسان کے دل میں ہوتا ہے واقعی اور اصلی نماز ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہمارے ظاہری اقوال و افعال ، حرکات و سکنات کا اثر ہمارے قلب پر پڑتا ہے یا یوں کہو کہ جو کچھ ہمارے باطن میں مرکوز ہے حرکات ظاہری ہی اس کی آئینہ دار ہیں ۔ بہت صاف بات ہے کہ اچھا پیچ اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ مشاہدہ گواہ ہے کہ جس وقت ہم کسی سچے دوست یا کسی بڑے محسن کو دیکھتے ہیں جس کی مہربانیاں اور عطایات ہمارے شامل حال ہیں تو بے اختیار بشاشت اور طلاقت کے آثار ہمارے چہرے پر آشکار ہوتے ہیں اور اگر کسی مخالف طبع مکر وہ شکل کو دیکھ پاویں تو فی الفور کشیدگی اور انزجار کا نشان پیشانی پر نمودار ہو جاتا ہے۔ غرض اس سے انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ تمام واردات اور عوارض مثلاً انبساط ، انقباض، یاس، رجا، فرحت، غم، محبت، اور عداوت اعضائے ظاہری کو باطنی سمیت یکساں متغیر و متأثر کر دیتے ہیں ۔ پس اب سوچنا چاہیے کہ جب اس خالق ، مالک ، رزاق، منعم کا تصور انسان کے قلب میں گزرے گا اور اس کے عطایات اور نعمتوں کی تصدیق سے اس کا دل و جان معمور ہو جائے گا تو یہ دلی جوش اور اضطراری ولولہ اس کو ساکن ، غیر متحرک چھوڑ دے گا؟ نہیں نہیں ۔ ضرور طوعاً و کرہا اعضائے ظاہری سے ٹپک پڑے گا۔ جڑ کو صدمہ پہنچے اور شاخوں کو جس تک نہ ہو غیر معقول بات ہے۔ غیر مہذب اقوام کے مذہبی رسوم کے آزاد دل سے تحقیقات کرو تو عجیب و دلکش اصول کا مجموعہ تمہیں ملے گا کہ اس اُو پر دیکھنے والی ہستی نے قوائے روحانی کی ابتدائی شگفتگی کے زمانے میں جس کو زمانہ حال کے مہد بین زمانہ جہالت و تاریکی بولتے ہیں ۔ کن کن صورتوں اور رنگوں میں