حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 68 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 68

حقائق الفرقان ۶۸ سُورَةُ الْبَقَرَة پس یہ تصورات انسان کے دل میں ضرور سخت جوش اور عجیب جذبات پیدا کرتے ہیں اور دلی نیاز بڑی شکر گزاری کے ساتھ مل کر اس کو اس منعم ومحسن کی ستائش ومحمد کی طرف مائل کرتا ہے اور جس قدر زیادہ اس کو اپنی احتیاج و افتقار کا علم اور فوق القدرت سامانوں کے بہ آسانی بہم پہنچ جانے کا یقین ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ اس کا دل اس منعم کے احسانات کی شکر گزاری سے بھر جاتا ہے۔یہی دلی نیاز اور قلبی شکر گزاری جو سچی محبت اور باطنی اخلاص سے ناشی ہوتی ہے اور یہی جوش و خروش جو انسان کے دل میں ہوتا ہے واقعی اور اصلی نماز ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ ہمارے ظاہری اقوال و افعال، حرکات وسکنات کا اثر ہمارے لب پر پڑتا ہے یا یوں کہو کہ جو کچھ ہمارے باطن میں مرکوز ہے حرکاتِ ظاہری ہی اس کی آئینہ دار ہیں۔بہت صاف بات ہے کہ اچھا بیج اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔مشاہدہ گواہ ہے کہ جس وقت ہم کسی بچے دوست یا کسی بڑے محسن کو دیکھتے ہیں جس کی مہربانیاں اور عطایات ہمارے شامل حال ہیں تو بے اختیار بشاشت اور طلاقت کے آثار ہمارے چہرے پر آشکار ہوتے ہیں اور اگر کسی مخالف طبع مکر وہ شکل کو دیکھ پاویں تو فی الفور کشیدگی اور انز جار کا نشان پیشانی پر نمودار ہو جاتا ہے۔غرض اس سے انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ تمام واردات اور عوارض مثلاً انبساط، انقباض، یاس، رجا، فرحت، غم ،محبت ، اور عداوت اعضائے ظاہری کو باطنی سمیت یکساں متغیر و متأثر کر دیتے ہیں۔پس اب سوچنا چاہیے کہ جب اس خالق، مالک، رزاق، منعم کا تصور انسان کے قلب میں گزرے گا اور اس کے عطایات اور نعمتوں کی تصدیق سے اس کا دل و جان معمور ہو جائے گا تو یہ دلی جوش اور اضطراری ولولہ اس کو ساکن، غیر متحرک چھوڑ دے گا ؟ نہیں نہیں۔ضرور طوعاً و کرہاً اعضائے ظاہری سے ٹپک پڑے گا۔جڑ کو صدمہ پہنچے اور شاخوں کو حس تک نہ ہو غیر معقول بات ہے۔غیر مہذب اقوام کے مذہبی رسوم کے آزاد دل سے تحقیقات کرو تو عجیب و دلکش اصول کا مجموعہ تمہیں ملے گا کہ اس اُو پر دیکھنے والی ہستی نے قوائے روحانی کی ابتدائی شگفتگی کے زمانے میں جس کو زمانہ حال کے مہذبین زمانہ جہالت و تاریکی بولتے ہیں۔رکن رکن صورتوں اور رنگوں میں