حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 61 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 61

حقائق الفرقان ۶۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة عبد القیس کے قافلہ کے قصہ میں روایت کیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ ایمان اس امر کی شہادت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور صلوۃ کا قائم کرنا اور زکوۃ کا دینا اور رمضان کے روزے رکھنے اور مسجد حرام کا حج کرنا ہے۔امام احمد اور ابوعوانہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث کو روایت کیا ہے اور نسائی میں مروی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ مومن وہ ہے کہ جس کو لوگ اپنے مال و جان پر امین سمجھیں اور امام احمد اور عبدالرزاق نے روایت کیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ زانی جب زنا کرتا ہے تو زنا کرنے کے وقت ہرگز مومن نہیں ہوتا اور نہ چور چوری کرنے کے وقت مومن ہوتا ہے اور نہ شرابی شراب پینے کے وقت مومن ہوتا ہے اور نہ کوئی اُچکا کسی ذی قدر شئے کے اُچک کر لے جانے کے وقت مومن ہوتا ہے جب لوگ نظریں اُٹھا کر اس کو دیکھتے ہوتے ہیں اور وہ پھر بھی اُچک لے جاتا ہے اور نہ خائن خیانت کے وقت مومن ہوتا ہے تم اس سے بچو۔اور ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ ان سے ایمان نکل کر سایہ بان کی طرح ان کے اُو پر ہوتا ہے۔تو جب وہ اس عمل کو قطع کر دیتا ہے تو اللہ اس کی طرف ایمان کو لوٹا دیتا ہے اور صحیح مسلم میں مروی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں۔سب سے ردنی راستہ سے موذی چیز کا دُور کرنا ہے اور حیا ایمان کی ایک بڑی شاخ ہے اور جب آنحضرت سے یہ سوال ہوا ہے کہ کونسا ایمان افضل ہے تو آپ نے یہ جواب دیا ہے کہ اخلاق حسنہ۔اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔اور امام احمد کی ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ تو محبت بھی اللہ ہی کے لئے کرے اور عداوت بھی محض اللہ ہی کے لئے کرے اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں لگائے اور فرمایا ہے کہ جو شخص محض اللہ ہی کے لئے دیتا ہے اور اللہ ہی کے لئے روکتا ہے تو اس نے اپنا ایمان کامل کر لیا ہوتا ہے۔اس کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور بخاری میں ہے کہ ایمان کا نشان انصار کی محبت ہے اور مسلم میں ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا ہے کہ مجھ سے مومن ہی پیار کرے گا نہ اور۔اور ابوسلیمان دارانی سے مروی ہے کہ آنحضرت نے قافلہ کو فرمایا تھا کہ تمہارے ایمان کا کیا نشان ہے؟ تو انہوں نے عرض کی کہ آپ کے بھیجے ہوؤں نے ہم کو پانچ چیزوں کا حکم دیا ہے کہ ہم شہادت دیں کہ اللہ کے