حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 60
حقائق الفرقان ۶۰ سُورَةُ الْبَقَرَة اصلاح کے بعد فسادمت ڈالو۔ یہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم مومن ہو۔ اور فرمایا۔ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَ أَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَ أَطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ - إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَ إِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ أَيْتُهُ زَادَتْهُمْ إِيْمَانًا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ۔ (الانفال: ۲ تا ۴) پس اللہ سے ڈرو اور اپنے درمیانی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔ مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو اُن کے دل ڈر جاتے ہیں اور ان کو اس کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ اُن کے ایمان کو بڑھاتی ہیں اور وہ اپنے رب پر ہی سہارا رکھتے ہیں اور جو نمازیں قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے سے کچھ خرچ کرتے ہیں۔ اور فرمایا ۔ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمُ (البقرة: (۲۷) لیکن جو لوگ ایمان لاتے ہیں پس وہ جانتے ہیں کہ وہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے۔ اور حدیثوں کے لحاظ سے ایمان کی تعریف یہ ہے حدیث میں آیا ہے کہ حضرت جبرائیل نے آنحضرت سے دریافت کیا کہ ایمان کیا ہے؟ تو حضور علیہ السّلام نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کی ملاقات اور اس کے رسولوں اور آخری دن پر ایمان لائے ۔ اور ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ آخرت میں اُٹھائے جانے پر اور اس پر ایمان لاؤ کہ اچھائی اور برائی کا اندازہ اللہ کی طرف سے ہے تو جبرائیل نے کہا صَدَقْتَ (آپ نے سچ فرمایا) یہ حدیث بخاری ، مسلم ، ابن ماجہ میں ہے۔ اور فرمایا ہے تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اپنے والد اور اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہوں ۔ یہ حدیث بخاری میں ہے اور ابن خزیمہ میں اس پر زیادہ یہ بھی آیا ہے کہ اپنے اہل و عیال اور مال سے ۔ اور بخاری میں ایک اور حدیث میں فرمایا ہے تم سے کوئی مومن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہ پسند نہ کرے جو کہ وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ اور شعب الایمان میں ایک حدیث میں ہے ۔ اور شعب الایا فرمایا ہے اُس شخص کا ایمان نہیں جس کے لئے امانت نہیں ۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس نے کا