حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 57
حقائق الفرقان ۵۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کر لیتا ہے اور پھر ان فرضی باتوں کے ذریعے سے مقدمات کی اصل حقیقت کو پالیتا ہے۔غرضیکہ دیکھا جاتا ہے کہ اکثر فرضی باتوں کو مان کر انسان بڑے بڑے علوم حاصل کر لیتا ہے۔اسی طرح اگر دہر یہ طبع لوگ اللہ تعالیٰ کو فرضی مان کر ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق کام کریں تو دیکھ لیں کہ کیا کیا نتائج نکلتے ہیں اور وہ لوگ جن کو براہ راست مکالمہ الہیہ کا شرف حاصل نہیں ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ ابھی غیب میں ہی ہے اگر وہ بھی فرض کر کے اللہ تعالیٰ سے دعائیں شروع کر دیویں تو نتائج حسنہ پالیویں گے۔ایمان بالغیب کی حقیقت کو حضرت احمد مرسل یزدانی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ ۳۳۶ میں اور اپنی دوسری مقدس تالیفات میں بھی دکھایا ہے وہاں دیکھ لیا جاوے کہ انسانی نجات کے واسطے کس قدر ضرورت ایمان بالغیب کی ہے اور اگر یہ نہ ہو تو پھر دنیا میں کوئی بھی ایسا عمل ہر گز نہیں ہے کہ جس کے ذریعے سے انسان انعامات الہی کا مستحق ہو سکے کیونکہ جیسے انسان دور سے ایک دھواں دیکھ کر یہ گمان کرتا ہے کہ وہاں آگ ہو گی اور اس وقت اس کا ایک فتنی علم ہوتا ہے جب تک وہ اس دھوئیں کی طرف قدم بڑھا کر نہ چلے اور اس آگ میں ہاتھ ڈال کر نہ دیکھ لیوے تب تک یقینی علم کا مرتبہ نہیں حاصل کر سکتا۔در اصل ایسی علمی حالت کا نام ایمان ہے۔اسی طرح بعض قرائن مرتجہ سے اس کو ایک خطنی علم خدا کی ہستی کا پیدا ہوتا ہے وہ اس کے دل میں ایک جوش اس ہستی کا یقینی علم حاصل کرنے کے لئے پیدا کرتا ہے جو کہ اس کی ترقیات کا موجب ہوتا ہے۔ظنی امور سے یقینی امور کی طرف آنے کے لئے چونکہ انسان کو ضرور کچھ نہ کچھ محنت کرنی پڑتی ہے اور اس کے دل میں ایک اضطراب ہوتا ہے اس لئے متقی کی دوسری صفت یہ فرمائی يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وہ نماز کو قائم کرتے ہیں۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳۰،۲۳ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۵) ایمان کیا ہے خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ b يَرْتَابُوا وَ جَهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللهِ أو لَبِكَ هُمُ الصُّدِقُونَ (الحجرات: ١٦) مومن تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر شک میں نہ پڑے اور اللہ کی راہ میں