حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 645 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 645

جبر جلا وطن میں بڑی جرات سے کہتا ہوں کہ حضور علیہ السلام اور بنی اسرائیل جب شرارت میں حد سے بڑھ گئے تو ان کے راشد جانشینوں کے زمانے میں کوئی شخص خدا تعالیٰ نے ان پر ذلت و مسکنت لیس دی۔وہ جبر واکراہ سے مسلمان نہیں بنایا گیا۔سر ولیم میور کہتا ہے۔شہر مدینے کے ہزاروں ۵۹۲ بابل میں جلا وطن کئے گئے جھوٹ ۶۰۲ مسلمانوں میں سے کوئی ایک شخص بھی بزور وا کراہ قرآن میں جھوٹ بولنے والے پر لعنت آئی ہے ۱۲۱ اسلام میں داخل نہیں کیا گیا بھلا خیال تو کر واگر اسلام میں جبر جائز ہوتا تو ۵۹۱ ہندوستان میں اتنے سو سال حکومت رہی پھر یہ ہزاروں برسوں کے مندر، شوالے اور پستکیں کیوں اسلام کا اعلیٰ رکن موجود پائی جاتیں حفاظت کا وعدہ ۵۷۳ جبرائیل إلى أحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي النَّارِ إِلَّا الَّذِينَ عَلَوا جبرائیل و میکائیل۔دینیات کا مرکز جبرائیل ہے اور دنیوی کارخانہ کا میکائیل بِالاسْتِكْبَارِ ۲۸۳ | حدیث (حقوق) جب اللہ تعالیٰ کسی سے پیار کرتا ہے تو وہ جبرائیل تیرے پر نفس کے بھی حقوق ہیں تیری بیوی کے بھی کو آگاہ کرتا ہے تو وہ جبرائیل اور اس کی جماعت حقوق ہیں۔کا محبوب ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ زمین میں حلالہ ۵۰۲ ۱۸۳ ۲۴۸ مقبول ہو جاتا ہے جہاد جہاد کی ضرورت ۵۷۸ ۴۹۳ ،۴۹۲ ،۴۲۷ حلالہ اس چیز کا نام ہے کہ موقت نکاح کرتے ہیں ادھر نکاح و جماع اور صبح طلاق۔پھر پہلا شو ہر نکاح کر لیتا ہے ۵۴۶ سورہ بقرہ اوّل سے آخر تک جہاد کی ترغیب میں حلالہ جائز نہیں۔اپنی مرضی سے طلاق دے ۵۴۷ نازل ہوئی ۴۷۷