حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 636
حقائق الفرقان ۶۳۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (التوبة: ١٢٢) یعنی یہ امرتو ہو ہی نہیں سکتا کہ کل مومن علوم حقہ کی تعلیم اور اشاعت میں نکل کھڑے ہوں۔اس لئے ایسا ہونا چاہئے کہ ہر طبقہ اور گروہ میں سے ایک ایک آدمی ایسا ہو جو علوم دین حاصل کرے اور پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کو حقائق دین سے آگاہ کرے تا کہ ان میں خوف وخشیت پیدا ہو۔الحکم جلد ۸ نمبر ۷ مورخه ۲۴ / فروری ۱۹۰۴ صفحه ۴) وہ تمہاری فطرتوں کا خالق ہے اور فطرت کا صحیح اور کامل علم رکھتا ہے۔اس خالق الفطرت نے تمہیں کوئی ایسا حکم نہیں دیا جوتم نہ کر سکو بلکہ وہ احکام دیئے ہیں جو تمہاری طاقت اور مقدرت کے نیچے ہیں۔چنانچہ وہ فرماتا ہے لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : ۲۸۷) انسان کی تمکن ، وسعت اور فعل اور ترک فعل کی جو مقدرت اسے حاصل ہے۔اسی وسعت ممکن کے ساتھ ہم حکم کرتے ہیں ایسی کوئی بات نہیں کہتے جو کہ طاقت سے باہر ہو۔یہ بالکل جھوٹ ہوگا اگر کہ دو کہ فلاں امر وحکم ہماری طاقت سے باہر ہے کیونکہ یہ آیت قرآنی شہادت ہے۔(احکم جلد ۱۶ نمبر ۲۳۲ مورخه ۲۱، ۲۸ جون ۱۹۱۲ صفحه ۱۶) لَهَا مَا كَسَبَتْ۔جو کچھ عمل کرے اس کا فائدہ بھی اسی عامل کے لئے ہے۔وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ۔ہر مصیبت کی جڑ انسان کی نافرمانی ہوتی ہے۔مَا أَصَابَكُم مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمُ (الشوری: ۳۱) پھر بھی بعض گستاخ لوگ اپنے دکھوں کو خدا کے ذمے لگاتے ہیں۔رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا۔حدیث میں آیا ہے۔اس دعا کا نتیجہ تھا کہ نسیان پر مؤاخذہ نہیں ہوتا۔خطا کی مثال یہ ہے کہ بندوق ماریں ہرنی کو اور لگ جائے انسان کو۔اصرا - اصر کیا چیز ہے۔اصر کے معنے غفلت کرنے کی وجہ سے کئی انسان شریر ہو گئے۔پھر اسی اصر کے معنے نہ سمجھنے سے تقدیر کے مسئلے میں غلطی لگی۔اصر کے معنے ہیں ایسے فعل کا ارتکاب جس کے بعد انسان ست و کاہل ہو جائے۔اصر کہتے ہیں گرد ڈالنے کو۔حَبْسُ الشَّئِ۔اصر نام لے تم پر جو کچھ مصیبت پڑتی ہے وہ تمہاری ہی بداعمالیوں کی وجہ سے ہے۔(ناشر)