حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 635
حقائق الفرقان ۶۳۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا - اللہ تکلیف نہیں دیتا کسی شخص کو مگر جو اس کی گنجائش ہے۔فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۳۱۵ حاشیه ) لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا - عیسائی کہتے ہیں کہ شریعت کا نزول ہمارے عجز کے ثبوت کے لئے ہے۔ایسے ہی کئی اور لوگ ہیں جن کا یہ عقیدہ ہے کہ شریعت پر عمل ناممکن ہے۔اس لئے فرمایا کہ ہم کوئی حکم ایسا نہیں دیتے جو انسان کی مقدرت ، وسعت،استطاعت کے مطابق نہ ہو۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۰ مؤرخہ ۲۰ مئی ۱۹۰۹ء صفحه ۵۲) یہ فخر عیسائیوں کو بے شک ہے کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کو ایسی شریعت ملی ہے جس کو کوئی انسان بجالا سکتا ہی نہیں۔اگر چہ تعجب ہے کہ پھر وہ شریعت کا نزول ہی کیوں مانتے ہیں سرے سے کہہ دیتے شریعت آئی ہی نہیں اور نہ اس کی کوئی ضرورت تھی کیونکہ انسان اس کی بجا آوری اور تعمیل سے قاصر ہے لیکن اسلام ہاں ! پاک و بے عیب اسلام ایسی شرمناک اور قابل مضحکہ بات کو روانہیں رکھتا وه لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: ۲۸۷) کی پاک ہدایت دیتا ہے۔پھر میں کیوں ایک طرفہ العین کے لئے بھی یہ روا رکھوں کہ اسلام میں کوئی حکم ایسا بھی ہے جس کی تعمیل ناممکن ہے۔یہ خوبی اور عظمت اسلام کی ہی ہے کہ اس کے جمیع احکام اس قسم کے ہیں کہ ہر ایک انسان ان سے اپنی استطاعت و طاقت کے موافق اپنی حالت اور حیثیت کے لحاظ سے یکساں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔مثلاً ایک شخص ہے وہ بیمار ہے اٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا وہ بیٹھ کر حتی کہ اشاروں سے بھی پڑھ سکتا ہے۔اس کا ثواب ایک مستعد تندرست آدمی کی نماز سے کم نہیں ہوگا نہ اس نماز میں کوئی سقم واقع ہوسکتا ہے۔ایک شخص استطاعت حج کی نہیں رکھتا۔حج نہ کرنے سے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اسی طرح پر تفقہ فی الدین کی بھی مختلف صورتیں ہیں ہر شخص اتنا وقت اور فراغت نہیں رکھتا کہ وہ اس کام میں لگار ہے۔دنیا میں تقسیم محنت کا اصول صاف طور پر ہدایت دیتا ہے کہ مختلف اشخاص مختلف کام کریں۔انسان کی تمدنی زندگی کی ضروریات کا تکفل ہوگا۔اسی طرح اسی اصول کی بنا پر حکم ہوا کہ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَابِفَةً لِيَتَفَقَهُوا فِي