حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 627
حقائق الفرقان ۶۲۷ سُورَةُ الْبَقَرَة لا يُضَار۔کاتب کو حق کتابت ضرور دینا چاہیے۔گواہوں کو بھی حرجانہ حسب حیثیت ان کو دینا چاہیے۔وَاتَّقُوا اللهَ۔اللہ کو سپر بناؤ۔اس کا تقوی اختیار کرو۔اللہ علم دے گا۔یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ تقوی کا نتیجہ سچے علوم کا ملنا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۰ مورخه ۲۰ مئی ۱۹۰۹ صفحه ۵۱) نیکی اور بدی کی شناخت کا انحصار ہے قرآن شریف کے علم پر اور وہ منحصر ہے بچے تقوی اور سعی پر۔چنانچہ فرمایا۔وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ الحكم جلد ۶ نمبر ۴ مورخه ۳۱/جنوری ۱۹۰۲ صفحه ۷) تعلیم الہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ قانون ٹھہرادیا ہے وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ احکام جلد نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۱۲) خدا کی راہوں کا علم انسان کو تقوی کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ تم تقوی اختیار کرو۔اللہ تم کو علم عطا کرے گا جس سے تم اس کی رضا مندی کی راہ پر چل سکو گے۔تقوی یہی ہے کہ انسان بالکل خدا کا ہو جاوے۔اس کا اُٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا ، کھانا پینا ہر ایک حرکت و سکون خدا کے لئے ہو۔جب وہ ہمہ تن اپنے وجود اور ارادوں کو خدا کے لئے بنادے گا تو پھر خدا بھی اس کا بن جاوے گا۔مَنْ كَانَ لِلهِ كَانَ اللهُ لَهُ - لے الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مورخه ۲۴/جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۱۴) علوم جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں درس تدریس سے آہی نہیں سکتے بلکہ وہ تقوی اور محض تقوی سے ملتے ہیں۔وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ اگر محض درس تدریس سے آ سکتے تو پھر قرآن مجید میں مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِلُوا الثَّوْرِيةَ ثُمَّ لَمْ يَخلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ ( الجمعة: ٢) کیوں الحکم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ارمئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۵) ہوتا ؟ ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو ان لوگوں کے لئے ہدایت نامہ قرار دیا ہے جو متقی لے جو اللہ کا ہو جاتا ہے اللہ اس کا ہو جاتا ہے۔۲۔ان لوگوں کی مثال جن پر توریت لا دی گئی ہے پھر انہوں نے اس کو اٹھایا ہے (ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گدھا ہے۔(ناشر)