حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 626 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 626

حقائق الفرقان ۶۲۶ سُورَةُ الْبَقَرَة ۵۰۰ روپیہ کی فکر ہے اور مجھے اس بات کی کہ یہی ۵۰۰ روپیہ گناہ کا کفارہ ہو جائے کسی اور شامت میں مبتلا نہ ہوں ۔ کئی لوگ اس غلطی میں گرفتار ہیں کہ وہ لکھوانے میں اور قانون سلطنت کے مطابق رجسٹری وغیرہ کرانے میں تساہل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اجی یہ ہمارے اپنے ہیں یا بڑے بزرگ ہیں ان کی نسبت کیا خطرہ ہے۔ مگر آخر اس حکم کی خلاف ورزی کا نتیجہ اٹھاتے ہیں۔ كَمَا عَلَّمَهُ اللهُ - كَمَا کے معنے ہیں کیونکہ علمه الله صحیح فرمایا۔ کیونکہ اللہ ہی نے دماغ دیا۔ اسی نے فہم دیا۔ اسی نے آنکھیں دیں۔ کوئی کا تب کتابت نہیں کر سکتا مگر اللہ کے فضل سے ۔ اس لئے اپنی طرف منسوب فرمایا۔ بالْحَقِّ ۔ یعنی لکھواتے لکھواتے پیچ دار باتیں نہ لکھوائے۔ أَنْ تَضِلَّ إِحْل لَهُمَا فَتُذَكِّرَ احْدُ لَهُمَا الْأخْرى - لاہور میں ایک شخص نے میری تقریر سن کر مجھ سے کہا کیا یہ باتیں آپ کی مجھے لفظ بلفظ یادر ہیں گی۔ میں نے سادگی سے کہا۔ نہیں ۔ اس پر وہ بولا ۔ تب یہ حدیثیں وغیرہ سب نا معتبر ہیں کیونکہ جب دس منٹ کے بعد کوئی کلام لفظ بلفظ یاد نہیں رہ سکتا تو پھر دوسو سال کے بعد وہ باتیں کیسے یاد رہ سکتی ہیں ۔ حدیثیں تو تمام دوسو سال کے بعد مرتب ہوئی ہیں ۔ میں نے اسے جواب دیا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایک بھول جائے تو دوسرا یاد کرائے۔ اس اصول کے مطابق ہم حدیثوں کے قدر مشترک کو لے لیتے ہیں۔ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَلا تَكْتُبُوهَا ۔ تم پر گناہ نہیں جو نہ لکھوا سکو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ لکھنا بہر حال بہتر ہے ۔ یہ اس کلمہ سے خوب ملتا ہے فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ تَطَوَّفَ بِهِمَا (البقرة:۱۵۹) اس میں طواف واجب ہے۔ وَ أَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُم - شافعی دکاندار معمولی سودوں میں بھی آس پاس کے دکانوں کے لوگوں کو گواہ کر لیتے ہیں یا کم از کم علی مذہب ابی حنیفہ کہہ کر اعلان کر دیتے ہیں ۔ اے تو اس پر کچھ گناہ نہیں اگر دونوں کے درمیان طواف کرے ۔ (ناشر)