حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 625 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 625

حقائق الفرقان ۶۲۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة معاہدہ کو اس انصاف کے ساتھ لکھے جس میں ضرورت کے وقت تمسک میں نقص نہ نکلے اور تمستک نویس کو تمسک کے لکھنے میں کبھی انکار نہ ہوا کرے کیونکہ کا تب کو اللہ تعالیٰ نے فضل سے ایسا کام سکھایا۔پس چاہیے کہ تمسکات کو لکھے اور لکھا وے وہ جس نے دینا ہو۔اور ضرور ہے کہ لکھاتے ہوئے لکھانے والا اللہ سے ڈرتا رہے اور ذرہ بھی اس میں کمی و نقص نہ کرے اور اگر لکھا نے والا کم عقل اور بچہ اور لکھانے کے قابل نہیں تو اس کا سر براہ انصاف و عدل کے ساتھ لکھاوے اور اپنے معاملات پر دومرد گواہ بنالیا کرو۔اگر دو مرد گواہ نہ مل سکیں تو ایک مرد اور دو عورتیں۔دو کا فائدہ یہ ہے کہ اگر ایک ان میں سے کچھ بھول گئی تو دوسری اسے یاد دلائے گی اور گواہ بلانے پر انکار نہ کریں اور ایسے سست نہ بنیو کہ تھوڑا یا بہتا میعادی معاملہ لکھنے میں چھوڑ دو۔اللہ تعالیٰ کے یہاں پر انصاف کی باتیں ہیں اور جہاں گواہی کی ضرورت پڑے گی وہاں یہ باتیں بڑی مفید پڑیں گی اور ایسی تدابیروں سے باہمی بدگمانیاں جاتی رہیں گی۔ہاں دستی لین دین اور نقدی کی تجارت میں تحریر نہ ہونے سے گناہ بھی نہیں۔مگر ہر ایک سودے میں گواہوں کا پاس ہونا تو ضرور چاہیے (اگر اس پر عمل ہوتا تو چوری کی چیزیں لینے میں پولیس کی گرفتاری سے بہت کچھ امن ہو جاتا ) اور یادر ہے کہ کا تب اور گواہ کو ان کا ہرجانہ دو۔اگر نہ دو گے تو بدکار بنو گے۔خدا کا ڈر رکھو۔اللہ تعالیٰ تمہیں آرام کی باتیں سکھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شئے کو جانتا ہے۔( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۲۶ تا ۲۲۷) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُم - جہاد میں ضرورت ہے روپیہ کی اور روپیہ کا حصول بعض کے نزدیک شود پر منحصر ہے۔فرمایا کہ جو شود لیتا ہے وہ اللہ سے جنگ کرتا ہے۔ہاں لین دین کے معاملے میں کافی احتیاط ضروری ہے۔كَاتِبُ بِالْعَدْلِ - یعنی کا تب کی تحریر عدالت سے وابستہ ہو اور قانون سلطنت کے ٹھیک مطابق ہو۔ہم نے ایک دفعہ پانسور و پیہ دیا اور جائیداد کی رجسٹری نہ کرائی۔چنانچہ وہ روپیہ بھی واپس نہ ملا۔حضرت صاحب نے فرمایا نور الدین نے دو گناہ کئے۔ایک تو یہ کہ اللہ کے حکم کے مطابق وہ رجسٹری داخل خارج نہ کرائی۔دوم اپنے تساہل سے دوسرے کو گناہ کرنے کا موقع دیا۔انہیں شاید