حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 624
حقائق الفرقان ۶۲۴ سُورَةُ الْبَقَرَة احد لَهُمَا فَتُذَكِّرَ احْدُهُمَا الْأُخْرَى وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا وَلَا تَسْتَمُوا أَنْ تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ وَ أَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ أَدْنَى اَلَّا تَرْتَابُوا إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمُ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ وَ لَا يُضَارُ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدُهُ وَ إِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقَ بِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ - ترجمہ ۔ اے ایمان دارو! جب تم لین دین کیا کر و قرض کا ایک میعاد مقررہ تک تو اُسے لکھ لیا کرو اور چاہیے کہ لکھ دے تم میں سے کوئی لکھنے والا انصاف سے اور انکار نہ کرے لکھنے والا لکھنے سے جیسا کہ ( یا کیونکہ ) اللہ نے اُس کو سکھایا تو اس کو چاہئے کہ لکھ دے اور لکھوا تا جاوے وہ شخص جس پر حق ہے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور کاٹ چھاٹ نہ کرے اُس میں سے کچھ ۔ پھر اگر وہ شخص جس پر حق ہے کم عقل ہو یا ناتواں ہو یا وہ خود نہ لکھوا سکتا ہو تو اس کا ولی مختار انصاف سے لکھوا دے اور دو گواہ ٹھہرا لیا کرو مردوں میں سے پھر اگر دو مرد نہ ہوں اسے پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہوں میں پسند کرو ( ٹھہرا دو ) اس وجہ سے کہ بھول جاوے ان میں سے کوئی تو یاد دلا دے اُس کو دوسری اور انکار نہ کریں گواہ جب بلائے جائیں اور اس بات میں سُستی نہ کرو کہ لکھ لیا کرو اس کو چھوٹا ہو معاملہ یا بڑا ایک میعاد تک یہ اللہ کے پاس بڑی منصفانہ کارروائی ہے اور بہت ٹھیک ہے گواہی کے لئے اور معلوم ہوتا ہے تم کو شبہ نہ پڑے گا مگر ہاں موجودہ تجارت ہو جو تمہارے آپس میں لین دین ہوا کرتا ہے تو تم پر کچھ گناہ نہیں جو اس کو نہ لکھو۔ اور گواہ تو کر ہی لیا کرو جب تم سودا کرو اور لکھنے والے اور گواہ کو نقصان نہ پہنچایا جاوے اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ ہی کو سپر بناؤ اور اللہ تم کو سکھاتا ہے اور اللہ ہی ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔ تفسیر او ایمان والو! ہر ایک معاملہ کو لکھ لیا کرو جس کے لئے کوئی میعادی معاہدہ ہو اور ہر ایک کو نہ چاہیے کہ معاہدوں کو لکھا کرے بلکہ چاہیے کہ معاہدہ کو وہ شخص لکھے جو ایسے معاملوں کا لکھنے والا ہو اور