حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 617
حقائق الفرقان ۶۱۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۲۶۹-۲۶۸ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا اَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْاَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُم بِأَخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ - الشَّيْطَنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۖ وَ b الله وَاسِعُ عَلِيمٌ ترجمہ۔اے ایمان دارو! تمہاری کمائی ہوئی چیزوں میں سے ستھری اور عمدہ چیز میں خرچ کرو اور تمہارے لئے جو زمین میں سے اگائیں ( وہ بھی خرچ کرو ) اور خبیث یعنی بُری چیزوں کا ارادہ نہ کرنا کہ دینے لگو اس سے (فقیروں کو ) حالانکہ وہ بری چیز یں تم خود نہ لے سکومگر لینے میں آنکھ بند کر جاؤ تو ، اور جان لو کہ اللہ بے پرواہ ہے بڑا تعریف کیا گیا ہے۔شیطان تم کو ڈراتا ہے تنگ دست ہو جانے سے اور حکم کرتا ہے تم کو بخیلی کا اور اللہ تم سے وعدہ فرماتا ہے اپنی بخشش کا اور برکت اور مال کا اور اللہ بڑی وسعت والا بڑا جاننے والا ہے۔تفسیر۔ایمان والو! اپنی کمائی اور زمین کی عمدہ برکات سے جو ہم نے تمہارے لئے نکالے ہیں اچھی اچھی چیزیں خدا کی راہ میں خرچ کرو۔( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۳۸) وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ۔ایک قصہ یاد ہے کسی ملاں کے پاس لڑ کا دودھ لایا۔اس نے کہا تم تو کبھی نہیں لائے آج کیا بات ہے۔اس نے کہا کتا اس میں منہ ڈال گیا تھا۔الشَّيْطنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ بعض وقت انسان کچھ دینا چاہتا ہے مگر دل میں طرح طرح کے وسوسے اٹھتے ہیں کہ یہ یہ خرچ در پیش ہیں اگر اس طرح سخاوت کی تو پاس کچھ بھی نہ رہے گا۔ان کے متعلق فرماتا ہے کہ شیطان تو یہ کہتا ہے مگر خدا فرماتا ہے کہ جو تم خلوص قلبی سے خرچ کرو گے میں اسے بڑھا دوں گا۔فَحْشَاءِ۔بخل کو کہتے ہیں۔یہاں یہی معنی ہیں۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۰ مورخه ۲۰ مئی ۱۹۰۹ء صفحه ۵۰)