حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 616
حقائق الفرقان ۶۱۶ سُورَةُ الْبَقَرَة انعامات میرے لئے مخفی ہیں۔پھر مصیبتیں گناہوں کا کفارہ ہیں۔گناہوں کے عوض میں جو سزا مجھے ملنی تھی وہ خدا جانے کس قدر تکلیف دہ ہوتی۔پھر یہ مصیبت موجود جو ہے اس پر بھی شکر کا مقام ہے کہ خدا اس سے بڑھ بڑھ کر مجھے مصیبتیں پہنچا سکتا ہے۔میری ناک کٹ جاتی۔میں بے عزبات ہو جاتا۔تباہ ہو جاتا۔کوئی عضو ہی جاتا رہتا۔لڑکا ہی نا فرمان ہو جاتا تو کس قدر دکھ کا موجب ہوتا۔پس جب اس نے مصیبت پر انا للہ پڑھنے والے کو نعم البدل دینے اور عام و خاص رحمتوں سے ممتاز فرمانے کا وعدہ کیا ہے تو میں کیوں شرح صدر سے الحمد نہ پڑھوں۔اس کے بعد میں نے الحمد پڑھی۔غرض مومن کو چاہیے کہ وہ مصیبتوں سے گھبرا نہ اُٹھے۔پھر کھجور میں ایک اور خاصیت ہے کہ اس کے پھل سال بھر قائم رہتے ہیں۔اسی طرح مومن ہر حالت میں دوسرے کے لئے مفید بنتا ہے۔اس کے لئے کوئی خاص موسم نہیں۔تیسری بات کھجور میں یہ ہے کہ وہ غذا کا کام بھی دیتی ہے اور شربت کا بھی۔گٹھلی گھوڑوں کو دیتے ہیں مقوی ہوتی ہے۔اس کی لیف سے قسم قسم کی رسیاں اور بار یک تاروں سے بستر بناتے ہیں۔پتوں کی چٹائیاں، فرش اور صندوق بنتے ہیں۔شاخوں کی الماریاں۔اس سے اتر کر انگور ہے اس کا منقہ بھی غذا اور شربت دونوں کا کام دیتا ہے۔پھر اس کے پتے بھی مفید ہیں گو عام طور سے استعمال نہیں ہوتے۔پھر وہ باغ بھی ایسا ہو کہ اس میں نہریں بہتی ہوں۔مِنْ كُلِّ الشَّہرت - سیب۔سنگترے۔فالسے۔کیلے وغیرھا۔غرض اس باغ پر ساری عمر کا سرمایا لگایا جا چکا ہے اور اب کوئی آرمان باقی نہیں۔اعصار۔اب اس پر کوئی بلا آ جاوے جو اسے دبوچ لے اور وہ جل جل کر خاک سیاہ ہو جاوے تو کیسی بری بات ہے۔اسی طرح کوئی خیرات تو کرتا ہے مگر وہ ان ہدایات کے مطابق نہیں کرتا جو حق سبحانہ نے بتائے تو پھر سب خرچ اکارت جاوے گا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۳۰ مورخه ۲۰ مئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۵۰)