حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 596 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 596

حقائق الفرقان ۵۹۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرُ إِلى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهُ ۚ وَ انْظُرُ إِلى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَ انْظُرُ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ اَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - ترجمہ۔کیا تو نے نہیں معلوم کیا اس شخص کا حال جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے متعلق اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے دیا تھا اُس کو غلبہ وشاہی جب کہا ابراہیم نے میرا رب وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔اُس نے کہا میں ( بھی ) جلاتا اور مارتا ہوں۔ابراہیم نے کہا اللہ تو سورج کو چڑھاتا ہے مشرق سے پس تو چڑھا اُس کو مغرب سے تو کا فرمبہوت اور حیران رہ گیا اور اللہ سمجھ نہیں دیتا ظالم قوم کو۔یا جیسا اُس کا حال جو گزرا ایک بستی کی طرف اور وہ گری ہوئی پڑی تھی اپنی چھتوں پر اُس نے کہا اللہ پاک اس بستی کو کب آباد کرے گا اس کی تباہی کے بعد۔تو مار رکھا اللہ نے اُس کو سو برس پھر اٹھا کھڑا کیا پوچھا تو کتنی دیر رہا، جواب دیا ایک دن یا ایک دن سے کم ،فرمایا بلکہ رہا تو سو برس اب تو دیکھ اپنے کھانے اور پینے کی چیز کی طرف کہ سڑی تک نہیں یا اُس پر برس نہیں گزرا اور دیکھ تو اپنے گدھے یا قوم کی طرف اور تا کہ ہم بنائیں تجھ کو نشان و نمونہ لوگوں کے لئے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف کس طرح ہم ان کا ڈھانچ بناتے ہیں پھر پہنا دیتے ہیں اُس پر گوشت تو جب اُس پر کھل گیا حال بولا میں بخوبی جانتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر شے کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔تفسیر۔یہ تو میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اس ساری سورۃ کا مقصد دشمن سے مقابلہ کے لئے تیار کرنا ہے اور اس کے ضمن میں تمام قسم کی سچائیاں اور فضائل اور تقوی کی راہیں بتادی ہیں اور یہ سمجھا دیا ہے کہ کامیابی کی سچی راہ کا پاک اصل صرف تقوی ہے۔يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ۔۔أُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقرۃ: ۴ تا۶) سے اس مضمون کو شروع کیا ہے اور یہاں اب بتایا جاتا ہے کہ بہت سے شریر لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کے پاک بندوں سے جھگڑا کرتے ہیں۔وہ بندے اگر چہ کمزور ہوتے ہیں مگر اللہ عین وقت پر ان کی ایسی دستگیری کرتا ہے کہ دشمن دم بخودرہ جاتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ ے جو لوگ اللہ کو مانتے ہیں بے دیکھے یا تنہائی میں یہی لوگ نہال اور بامراد ہیں۔