حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 594 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 594

حقائق الفرقان ۵۹۴ سُورَةُ الْبَقَرَة لا ۲۵۸ - اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلمتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا اَولِيْتُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلمتِ أُولَبِكَ أصحب النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ - ترجمہ۔اللہ انہیں کا دوست دار و حامی ہے جنہوں نے اُسے مانا اور وہ انہیں اندھیریوں سے نکال کر اُجالے میں لاتا ہے۔اور جو لوگ منکر کا فر ہیں ان کے رفیق حمایتی بدچلن شیطان ہیں وہ اُن کا فروں کو اُجالے سے اندھیریوں کی طرف لے جاتے ہیں یہی لوگ آگ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔تفسیر - اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا اللہ جو سمیع علیم ہے اس کی پہچان کیا ہے؟ فرماتا ہے کہ وہ مومنوں کا والی بن جاتا ہے۔اب مومنوں کی پہچان بتاتا ہے کہ وہ ظلمات سے نکل کر نور کی طرف آتے جاتے ہیں۔ظلمت کیا ہے جس میں تمیز نہ رہے۔روشنی کیا ہے؟ جس میں تمیز ہو سکے۔معمولی روشنی سورج کی ہے پھر اس سے بڑھ کر نور طب ہے جس سے انسان کے اندرونی امراض معلوم ہوتے۔پھر اس سے بڑھ کر نور فلاسفہ ہے کہ وہ خط و خال سے، بال سے، آواز سے، ناک سے، ہونٹ سے کسی کے اخلاق پر آگاہ ہو جاتے ہیں۔پھر جن کو اس سے بھی بڑھ کر انوار دیئے جاویں وہ مومن ہیں چنانچہ فرمایا اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللهِ پس مؤمن ہونے کا نشان ہے کہ اس انسان کی قوت متمتیزہ بڑھتی جاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ تاریکیوں سے نکل کر انوار میں آتا جاتا ہے اور اپنی حالت میں دن بدن نمایاں تبدیلی پاتا ہے۔ظلمتیں بھی کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ایک رسم کی ، مثلاً شادی آ گئی۔اب رسم کہتی ہے کہ دس ہزار روپیہ خرچ کرو۔اب گھر میں تو اپنے روپے ہیں نہیں۔پس ساہوکاروں کے پاس جاتا ہے۔وہ شود مانگتا ہے۔خدا فرماتا ہے جو سود دیتا یا لیتا ہے وہ خدا سے جنگ کرتا ہے۔پھر اسی طرح بڑھتے بڑھتے ایک گناہ سے کئی گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے۔لے مومن کی فراست سے ڈرو یقیناً وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔(ناشر)