حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 593 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 593

حقائق الفرقان ۵۹۳ سُورَةُ الْبَقَرَة قائم دکھلائی دیتے۔اگر عالمگیر کی لڑائیوں سے اسلام پر الزام ہے تو عالمگیر نے تاناشاہ سے جو ایک سیّد تھا دکن کے ملک میں جنگ کی۔پھر اپنے مسلمان باپ اور بھائیوں کے ساتھ جو معاملہ کیا و مخفی نہیں۔پس عالمگیری جنگ مذہبی جنگ کیوں خیال کی جاتی ہے؟ عالمگیر نے کبھی کسی ہندو کو تلوار اس سبب سے نہیں لگائی کہ وہ ہندو تھا اور کبھی اس نے زبر دستی ان کو مسلمان نہیں کیا۔ان کی جو مذہبی عبادت اور رسومات جو قدیم سے چلی آتی تھیں ان کو نہیں روکا۔محمود کی نسبت کہیں تاریخ سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس نے اشاعت اسلام اور دعوتِ اسلام میں ہمت صرف کی ہو۔گجرات میں اتنے دنوں تک پڑا رہا مگر ایک ہندو کو مسلمان نہ بنایا۔اپنے بھائی مسلمان امیر اسمعیل سے جنگ کی۔کیا وہ لڑائی بھائی کو مسلمان بنانے کے لئے تھی؟ اور ہند کے حملے تو راجہ جے پال نے خود کرائے جس نے محمود سے لڑنے میں ابتدا کی۔وَإِلّا محمود کا تو یہ منشاء تھا کہ تا تار کے بلا د کو فتح کرے نہ ہندکو۔( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۴۲، ۴۳) لوگوں نے بہت بڑی غلطی کھائی ہے اسلامی دفاعی جنگوں کے راز کے سمجھنے میں۔اور انہوں نے اسلام پر اعتراض کیا کہ وہ دین کے لئے تلوار اٹھانے کا حکم دیتا ہے۔حالانکہ اسلام کے لفظ میں صلح اور آشتی اور سلامتی کا مفہوم اور منطوق موجود ہے اور اسلام نے پکار پکار کر کہا ہے لا إكراه في الدين (البقرة - ۲۵۷) اور قرآن کریم میں ایک بھی آیت اس مضمون کی نہیں ہے کہ تم غیر مذہب والوں سے مسلمان بنانے کے لئے لڑو۔پھر خدا تعالیٰ جانے یہ لوگ کیوں ظلم اور زور کی راہ سے اسلام پر افترا کرتے ہوئے خدا سے نہیں ڈرتے۔مسلمان کی تعریف ہمارے سید و مولی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کی ہے کہ مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے عام لوگ عامہ اور مسلمان خاصۂ محفوظ رہیں۔غرض یہ افتراء ہے جو مسلمانوں پر کیا جاتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۱ ء صفحه ۱۲)