حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 592
حقائق الفرقان ۵۹۲ سُورَةُ الْبَقَرَة سلطنت اسلام کے مطیع ومحکوم تھے۔لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرۃ:۲۵۷) دین میں کوئی اجبار نہیں۔یہ آیت کھلی دلیل اس امر کی ہے کہ اسلام میں اور اہلِ مذاہب کو آزادی بخشنے اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم ہے۔( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۸۲ ۸۳) اسلام کے معنے ضلع کے ساتھ زندگی بسر کرنا، چین سے رہنا۔کیونکہ یہ لفظ سلم سے مشتق ہے جس کے معنے ضلع اور آشتی کے ہیں۔بعضے پادریوں کی دشمنانہ تحریر نے ، میں سچ کہتا ہوں، آپ کو دھوکہ دیا ہے۔جبر و اکراہ سے اسلام اور تصدیق قلبی کا حصول ممکن نہیں۔قرآن کی دوسری سورہ کو جو مدینہ میں نازل ہوئی اور جس میں جہاد کا حکم ہوا ہے پڑھ لیجئے اور غور کیجئے آپ کا کلام کہاں تک سچ ہے لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى (البقرة: ۲۵۷) اسلام میں شرط ہے کہ آدمی صدق دل سے باری تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی معبودیت اور اس کے رسولوں کی رسالت وغیرہ وغیرہ ضروریات دین پر یقین لا وے تب مسلمان کہلاوے اور ظاہر ہے که دلی یقین جبر و اکراہ سے کبھی ممکن نہیں ہے۔میں بڑی جرات سے کہتا ہوں کہ حضور علیہ السلام اور ان کے راشد جانشینوں کے زمانے میں کوئی شخص جبر و اکراہ سے مسلمان نہیں بنایا گیا۔بلکہ محمود غزنوی اور عالمگیر کے زمانے میں بھی کوئی شخص عاقل و بالغ جبر سے مسلمان نہیں کیا گیا۔دنیا میں تاریخ موجود ہے صحیح تاریخ سے اس الزام کو ثابت کیجئے۔میں نے زمانہ نبوی اور خلافتِ راشدہ کے وقت اور محمود عالمگیر کی تاریخ کو اچھی طرح دیکھ بھال کر یہ دعوی کیا ہے۔زمانہ رسالت مآب میں اور خلافت راشدہ میں صلح اور معاہدہ امن کے بعد گل مذہب کے لوگ مذہبی آزادی حاصل کر لیتے تھے۔خیبر کے یہود بحرین اور غسان کے عیسائی ، حضرت خاتم الانبیاء اور خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے وقت شام کے یہود اور عیسائی اسلام کی رعایا تھے اور اپنے مذہبی فرائض کی بجا آوری میں بالکل آزاد تھے۔عالمگیر کے عہد میں بڑے بڑے عہدوں پر ممتاز ہندوستان کے پرانے باشندے اپنی بت پرستی پر ا اس میں زبردستی نہیں اور حق و باطل واضح ہو گیا۔۱۲