حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 591 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 591

حقائق الفرقان ۵۹۱ سُورَةُ الْبَقَرَة ہمیں کتب مغازی میں (خواہ کیسی ہی نا قابل وثوق کیوں نہ ہوں ) کوئی ایک بھی ایسی مثال نظر نہیں آتی کہ آنحضرت نے کسی شخص کسی خاندان ، کسی قبیلے کو بزور شمشیر و اجبار مسلمان کیا ہو۔سرولیم میور صاحب کا فقرہ کیسا صاف صاف بتاتا ہے کہ شہر مدینے کے ہزاروں مسلمانوں میں سے کوئی ایک شخص بھی بزور و اکراہ اسلام میں داخل نہیں کیا گیا۔اور مکے میں بھی آنحضرت کا یہی رویہ اور سلوک رہا۔بلکہ ان سلاطین عظام ( محمود غزنوی، سلطان صلاح الدین، اور نگ زیب) کی محققانہ اور صحیح تواریخ میں کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ کسی شخص کو انہوں نے بالجبر مسلمان کیا ہو۔ہاں ہم ان کے وقت میں غیر قوموں کو بڑے بڑے عہدوں اور مناصب پر ممتاز وسرفراز پاتے ہیں۔پس کیسا بڑا ثبوت ہے کہ اہل اسلام نے قطع نظر مقاصد ملکی کے اشاعت اسلام کے لئے کبھی تلوار نہیں اُٹھائی۔آنحضرت صلعم کے دشمنوں ، اسلام کے مخالفوں نے اکثر یہ طعن کیا ہے کہ آپ کا دین بزور شمشیر شائع ہوا ہے اور تلوار ہی کے زور سے قائم رہا۔جن مؤرخین عیسائیوں نے آنحضرت کا تذکرہ یعنی لائف لکھی ہے آپ پر طعن کرنا انہوں نے اپنا شعار کر لیا ہے اور ان کے طعن کی وجہ فقط یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے اپنے تئیں اور اپنے رفقا کو دشمنوں کے حملوں سے بچایا۔یہ سچ ہے کہ بعض برگزیدگانِ خداد نیا میں وقتا فوقتاً پیدا ہوئے ہیں اور سوء اتفاق اور گردشِ تقدیر سے خدا کی راہ میں اور اعلائے کلمتہ اللہ کی کوشش میں شہید ہوئے ہیں اور بعض لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے خلل دماغ کی وجہ سے اس امر کا دعوی کیا جس کی تکمیل ان سے نہ ہو سکی۔الغرض مخبوط بھی گزرے ہیں اور مجذوب بھی ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی مجنونانہ حرکات کی سزا پائی مگر اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ مثلاً اگر حضرت مسیح مصلوب ہوئے یا مسیلمہ کذاب اپنی کذابیت اور مجذوبیت کی سزا کو پہنچا تو معاذ اللہ آنحضرت صلم کو بھی ان کی تقلید کرنا فرض تھا اور بغیر اپنی رسالت کے اتمام و تکمیل کے شہید ہو جانا لازم تھا ؟ قوانینِ اسلام کے موافق ہر قسم کی آزادی مذہبی اور مذہب والوں کو بخشی گئی جو