حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 590
حقائق الفرقان ۵۹۰ سُورَةُ الْبَقَرَة قرب حاصل ہوتا اسی قدر امتیازی قوت پیدا ہوتی ہے۔نزول وصعود پس اگر کسی صحبت میں رہ کر ظلمت بڑھتی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ قرب الہی کا موجب نہیں بلکہ بعد حرمان کا باعث ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے تو جس قدر انسان قریب ہوگا اسی قدر اس کو ظلمت سے رہائی اور نور سے حصہ ملتا جاوے گا۔اسی لئے ضروری ہے کہ ہر فعل اور قول میں اپنا محاسبہ کرو۔نیچے اور اوپر کے دو لفظ ہیں جو سائنس والوں کی اصطلاح میں بھی بولے جاتے ہیں اور مذہب کی اصطلاح میں بھی ہیں۔میں نے نیچے اور اوپر جانے والی چیزوں پر غور کی ہے۔ڈول جوں جوں نیچے جاتا ہے اس کی قوت میں تیزی ہوتی جاتی ہے اور اسی طرح پتنگ جب او پر جاتا ہے پہلے اس کا اُوپر چڑھانا مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن آخر وہ بڑے زور سے اوپر کو چڑھتا ہے۔یہی اصل ترقی اور تنزیل کی جان ہے یا صعود اور نزول کے اندر ہے۔انسان جب بدی کی طرف جھکتا ہے تو اس کی رفتار بہت سست اور دھیمی ہوتی ہے لیکن پھر اس میں اس قدر ترقی کرتا ہے کہ خاتمہ جہنم میں ہوتا ہے یہ نزول ہے اور جب نیکیوں میں ترقی کرنے لگتا اور قرب الی اللہ کی راہ پر چلتا ہے۔ابتداء مشکلات ہوتی ہیں اور ظالم لنفسہ ہونا پڑتا ہے۔مگر آخر جب وہ اس میدان میں چل نکلتا ہے تو اس کی قوتوں میں پر زور ترقی ہوتی ہے اور وہ اس قدر صعود کرتا ہے کہ وہ سابق بالخیرات ہو جاتا ہے۔جو لوگ اس اصل پر غور کرتے ہیں اور اپنا محاسبہ کرتے ہیں کہ ہم ترقی کی طرف جا رہے ہیں یا تنزل کی طرف۔وہ ضرور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔۔۔میں مختصر الفاظ میں کہتا ہوں کہ اصل غرض اور منشاء دین کا سعادت اور شقاوت کی راہوں کا بیان کرنا ہے۔ایمان باللہ ، ایمان بالملائکہ ، اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان ، جزا وسزا پر ایمان ہو اور پھر اس ایمان کے موافق عمل درآمد ہو اور ہر روز اپنے نفس کا محاسبہ کرو۔الحکم جلدے نمبر ۴ مؤرخہ ۳۱/جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۷،۶) انفصام۔ایک دانت سے دبائیں اور نشان پڑ جائے اسے قسم کہتے ہیں اس سے بڑھ کر قصم ، اس سے بڑھ کر قضم ہے۔فرمایا اس میں تو فصم بھی نہیں ہے۔تشخيذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۴)