حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 586
حقائق الفرقان ۵۸۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہوئی یا ہوئی ہے تو بہت کمزور ہے۔تم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ تم نے اس کو کامل صفات سے موصوف مانا ہے اور یہاں تک تم نے توحید سے حفظ اُٹھایا ہے کہ اگر کوئی غلطی سے مخلوق میں سے کسی کو ان صفات سے موصوف مانتا تھا تم نے اس کو بھی اس امام کے طفیل سے چھوڑا اور اب تم پاک ہو گئے کہ مسیح کو خالق اور باری ملل محترم اور ٹی اور کمیت اور عالم الغیب سمجھو۔تو جیسے یہ امتیاز حاصل کیا تھا اب کیسی ضرورت تھی کہ پھر صحابہ کی طرح تمہارے سارے تعلقات اس شجر طیبہ کے ساتھ ہوتے جس کے ساتھ پیوند ہوکر وہ تمام پھل لانے والے تم ہو سکتے تھے۔مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے جب میں کسی کو ایسے تعلقات سے باہر دیکھتا ہوں۔دیکھو! تمہارے تعلقات تمہارے چال چلن ، شادی و فمی، حسن معاشرت، تمدن، سلطنت کے ساتھ تعلقات ، غرض ہر قول و فعل آئندہ نسلوں کے لئے ایک نمونہ ہوگا۔پھر کیا تم چاہتے ہو کہ رحمت اور فضل کا نمونہ تم بنو یا لعنت کا۔پس دعائیں کرو کہ تم جو اس پاک چشمہ پر پہنچے ہو اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے سیراب کرے اور عظیم الشان فضل اور خیر کے حاصل کرنے کی تمہیں تو فیق ملے اور یہ سب توفیقیں اس وقت ملیں گی جب تمہارے سب معاملات ایک درخت سے وابستہ ہوں۔پس ان سارے چندوں اور اغراض میں ایک ہی تنا اور جڑ ہو۔پھر ایسی وحدت ہو کہ تمام دغا اور فریب کپٹ سے بڑی ہو جاؤ۔شاید تم نے سمجھا ہو کہ کسی کتاب کا نام کشتی نوح ہے۔نہیں۔کچھ اغراض و مقاصد ہیں۔کچھ عقائد اور اعمال ہیں۔اس پر وہی سوار ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو اس کی تعلیم کے موافق بناتا ہے۔پھر ان سب کے بعد تقوی کی وہ راہ ہے جس کا نام روزہ ہے جس میں انسان شخصی اور نوعی ضرورتوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے ایک وقت معین تک چھوڑتا ہے۔اب دیکھ لو کہ جب ضروری چیزوں کو ایک وقت ترک کرتا ہے تو غیر ضروری کا استعمال کیوں کرے گا؟ روزہ کی غرض اور غایت یہی ہے کہ غیر ضروری چیزوں میں اللہ کو ناراض نہ کرے اس لئے فرمایا لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ پھر جیسے پنجگانہ نمازیں ہر محلے میں باجماعت پڑھتے ہیں اور پھر جمعہ کی نماز سارے شہر والے