حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 581
حقائق الفرقان ۵۸۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة جو انسان اپنے اندر اس پیاس کو بجھا ہوا محسوس کرے اور فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ کے آثار پائے اس کو استغفار اور دُعا کرنی چاہیے کہ وہ خطرناک مرض میں مبتلا ہے جو اس کے لئے یقین اور معرفت کی راہوں کو روکنے والی ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہیں بے انت اور اس کے مراتب و درجات بے انتہا ہیں پھر مومن کیونکر مستغنی ہو سکتا ہے۔اس لئے اسے واجب ہے کہ اللہ کے فضل کا طالب اور ملائکہ کی پاک تحریکوں کا منبع ہوکر کتاب اللہ کے سمجھنے میں چست و چالاک ہو اور سعی اور مجاہدہ کرے۔تقوی اختیار کرے تا بچے علوم کے دروازے اس پر کھلیں۔غرض کتاب اللہ پر ایمان تب پیدا ہو گا جب اس کا علم ہوگا اور علم منحصر ہے مجاہدہ اور تقوی پر اور فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ سے الگ ہونے پر۔ایمان بالرسالت اس کے بعد چوتھا رکن ایمان کا ایمان بالرسول ہے۔بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈھیروں ڈھیر کتا بیں ہیں۔پرانے لوگوں کی یادداشتیں ہیں۔ہم نیکی اور بدی کو سمجھتے ہیں۔کسی ما مورو مرسل کی کیا ضرورت ہے؟ الحکم جلدے نمبر ۲۔مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵،۱۴) یہ لوگ اپنے مخازن علوم کو کافی سمجھتے ہیں اور خطرناک جرم کے مرتکب ہوتے ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور باغی ٹھہرائے جاتے ہیں اور یہ سچ بھی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی سے تو وہ مقابلہ کرتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ ایک انسان کو معظم و مکرم اور مطاع بنانا چاہتا ہے تو ہر ایک کا فرض ہے کہ رضاء النبی کو مقدم کرے اور اس کو اپنا مطاع سمجھے۔ارادہ الہی کو کوئی چیز روک نہیں سکتی۔اس کے مقابلہ میں تو جو آئے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔پس جو خلاف ورزی کرتا ہے یا یہ سمجھتا ہے کہ میرے علوم کے سامنے اس کی احتیاج نہیں وہ اس تعظیم ،مکرمت ، اعزاز میں جو اس مطاع مکرم و معظم کے متبعین کو لے یہ لوگ خوش ہوئے اس پر جو اُن کے پاس علم تھا۔(ناشر)