حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 580
حقائق الفرقان ۵۸۰ سُورَةُ الْبَقَرَة کیوں ایسے وقت انسان دبدبہا اور تردد میں پڑتا ہے اور جب یہ دیکھتا ہے کہ ایک کچھ فتوی دیتا ہے اور دوسرا کچھ تو وہ گھبرا جاتا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔کاش وہ جَاهَدُوا فِینَا کا پابند ہوتا تو اس پر سچائی کی اصل حقیقت گھل جاتی۔مجاہدہ کے ساتھ ایک اور شرط بھی ہے وہ تقوی کی شرط ہے۔تقوی کلام اللہ کے لئے معلم کا کام دیتا ہے۔وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ اللَّہ کی تعلیم تقولی پر منحصر ہے اور اس کی راہ کا حصول جہاد پر۔جہاد سے مراد اللہ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور کوشش ہے۔ترقیات کا مانع اللہ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور جہاد اور تقوی اللہ سے روکنے والی ایک خطرناک غلطی ہے جس میں اکثر لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُم مِّنَ الْعِلْمِ کسی قسم کا علم جو انسان کو ہو وہ اس پر ناز کرے۔اسی کو اپنے لئے کافی اور راحت بخش سمجھے تو وہ سچے علوم اور ان کے نتائج سے محروم رہ جاتا ہے۔خواہ کسی قسم کا علم ہو، وجدان کا ، سائنس کا صرف ونحو یا کلام یا اور علوم، غرض کچھ ہی ہو۔انسان جب ان کو اپنے لئے کافی سمجھ لیتا ہے تو ترقیوں کی پیاس مٹ جاتی ہے اور محروم رہتا ہے۔راست باز انسان کی پیاس سچائی سے کبھی نہیں بجھ سکتی بلکہ ہر وقت بڑھتی ہے۔اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ ایک کامل انسان ، اعلم بااللہ آتھی لِلهِ ، آخشی اللہ جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سچے علوم۔معرفتیں۔بچے بیان اور عمل درآمد میں کامل تھا اس سے بڑھ کر اعلم۔انفی اور اخشی کوئی نہیں۔پھر بھی اس امام المتقین اورامام العالمین کو یہ حکم ہوتا ہے قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔(طه: ۱۱۵) اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ سچائی کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور یقین کی راہوں اور علوم حقہ کے لئے اسی قدر پیاس انسان میں بڑھے گی جس قدر وہ نیکیوں اور تقوی میں ترقی کرے گا۔لے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ ہی کو سپر بناؤ اور اللہ تمکو سکھاتا ہے۔اور کہا کراے میرے رب ! مجھے علم اور زیادہ دے۔(ناشر)