حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 579
حقائق الفرقان ۵۷۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة انسان اللہ تعالیٰ کا قرب اور دنیا میں قبول حاصل کرتا ہے۔اسی طرح پر جیسے نیکیوں کی تحریک ہوتی ہے میں نے کہا کہ بدیوں کی بھی تحریک ہوتی ہے۔اگر انسان اس وقت تعوذ ، استغفار سے کام نہ لے۔دعائیں نہ مانگے۔لاحول نہ پڑھے تو بدی کی تحریک اپنا اثر کرتی ہے اور بدیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔پس جیسے یہ ضروری ہے کہ ہر نیک تحریک کے ہوتے ہی اس پر کار بند ہونے کی سعی کرے اور شستی اور کاہلی سے کام نہ لے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر بد تحریک پر فی الفور استغفار کرے، لاحول پڑھے، درود شریف پڑھے اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور دعائیں مانگے۔یہ بات بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ ایمان باللہ کے بعد ایمان بالملائکہ کو کیوں رکھا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری سچائیوں اور پاکیزگیوں کا سر چشمہ تو جناب النبی ہی ہے مگر اللہ تعالیٰ کے پاک ارادے ملائکہ پر جلوہ گری کرتے ہیں اور ملائکہ سے پاک تحریکیں ہوتی ہیں۔ان نیکی کی تحریکوں کا ذریعہ دوسرے درجہ پر چونکہ ملائکہ ہیں اس لئے ایمان باللہ کے بعد اس کو رکھا۔ملائکہ کے وجود پر زیادہ بحث کی اِس وقت حاجت نہیں۔یہ تحریکیں ہی ملائکہ کے وجود کو ثابت کر رہی ہیں۔اس کے علاوہ لاکھوں لاکھ مخلوقِ الہی ایسی ہے جس کا ہم کو علم بھی نہیں اور نہ ان پر ایمان لانے کا ہم کو حکم ہے۔ایمان بالكتب اس کے بعد تیسر احجز و ایمان کا ایمان پالکتب ہے۔براہ راست مکالمہ اول فضل ہے۔پھر ملائکہ کی تحریک پر عمل کرنا اس کے قرب کو بڑھاتا ہے ان کے بعد کتاب اللہ کے ماننے کا مرتبہ ہے۔کتاب اللہ پر ایمان بھی اللہ کے فضل اور ملائکہ ہی کی تحریک سے ہوتا ہے۔اللہ کی کتاب پر عمل درآمد جو بچے ایمان کا مفہوم اصلی ہے چاہتا ہے محنت اور جہاد۔چنانچہ فرمایا۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: ۷۰) یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ اور سعی کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔یہ کیسی کچی اور صاف بات ہے۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں اختلاف کے وقت انسان مجاہدات سے کام نہیں لیتا۔