حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 578 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 578

حقائق الفرقان ۵۷۸ سُورَةُ الْبَقَرَة انسان کے دل میں نیکی کی تحریک ہوتی ہے یہاں تک کہ ایسے وقت بھی یہ تحریک ہو جاتی ہے جبکہ وہ کسی بڑی بدی اور بدکاری میں مصروف ہو۔میں نے ان امور پر مدتوں غور کی اور سوچا ہے اور ہر ایک شخص اپنے دل کی مختلف کیفیتوں اور حالتوں سے آگاہ ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ کبھی اندر ہی اندر کسی خطرناک بدی کی تحریک ہو رہی ہے اور پھر محسوس کرتا ہے کہ معا دل میں رقت اور نیکی کی تحریک کا اثر پاتا ہے۔یہ تحریکات نیک یا بد جو ہوتی ہیں بڑوں کسی محرک کے تو ہو نہیں سکتی ہیں۔پس یہ وہی بات ہے جو میں نے ابھی کہی ہے کہ انسان کے دل کی طرف ملائکہ اور شیاطین نظر رکھتے ہیں۔پس ایمان بالملائکہ کی اصل غرض یہ ہے کہ ہر نیکی کی تحریک پر جو ملائکہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے کبھی کسل و کاہلی سے کام نہ لے اور فورا اس پر عمل کرنے کو تیار ہو جائے اور توجہ کرے۔اگر ایسا نہ کرے گا تو وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ " کا مصداق ہو کر پھر نیکی کی تو فیق سے بتدریج محروم ہو جائے گا۔قرب الہی کا دوسرا ذریعہ یہ پکی بات ہے کہ جب انسان نیکی کی تحریکوں کو ضائع کرتا ہے تو پھر وہ طاقت ، وقت ،فرصت اور موقع نہیں ملتا۔اگر انسان اسی وقت متوجہ ہو جاوے تو معا نیک خیال کی تحریک ہوتی ہے۔چونکہ اس خواہش کا محرک محض فضل الہی سے ملک ہوتا ہے جب انسان اس کی تحریک پر کار بند ہوتا ہے تو پھر اس فرشتہ اور اس کی جماعت کا تعلق بڑھتا ہے اور پھر اس جماعت سے اعلیٰ ملائکہ کا تعلق بڑھنے لگتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔ایک حدیث میں صاف آیا ہے کہ جب اللہ تعالی کسی سے پیار کرتا ہے تو جبرائیل کو آگاہ کرتا ہے تو وہ جبرائیل اور اس کی جماعت کا محبوب ہوتا ہے اسی طرح پر درجہ بدرجہ وہ محبوب اور مقبول ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ زمین میں مقبول ہو جاتا ہے۔یہ حدیث اسی اصل اور راز کی حل کرنے والی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔ایمان بالملائکہ کی حقیقت پر غور نہیں کی گئی اور اس کو ایک معمولی بات سمجھ لیا جاتا ہے۔یا درکھو کہ ملائکہ کی پاک تحریکوں پر کار بند ہونے سے نیکیوں میں ترقی ہوتی ہے یہاں تک کہ لے اور جان رکھو کہ اللہ آڑے آ جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے۔( ناشر )