حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 573 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 573

حقائق الفرقان سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔ ۵۷۳ سُورَةُ الْبَقَرَة تفسیر - لا إِكْرَاهَ في الدائن ۔ ایک انبیاء کی راہ ہوتی ہے ایک بادشاہوں کی ۔ انبیاء کا یہ قاعدہ نہیں ہوتا کہ وہ ظلم و جور و تعدی سے کام لیں۔ ہاں بادشاہ جبر وا کراہ سے کام لیتے ہیں۔ پولیس اس وقت گرفت کر سکتی ہے جب کوئی گناہ کا ارتکاب کر دے مگر مذہب گناہ کے ارادہ کو بھی روکتا ہے۔ پس جب مذہب کی حکومت کو آدمی مان لیتا ہے تو پولیس کی حکومت اس کی پر ہیز گاری کے لئے ضروری نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جبر و اکراہ کا تعلق مذہب سے نہیں ۔ پس کسی کو جبر سے مت داخل کرو کیونکہ جو دل سے مومن نہیں ہوا وہ ضرور منافق ہے۔ شریعت نے منافق اور کافر کو ایک ہی رسی میں جکڑا ہے۔ غلطی سے ایسی کہانیاں مشہور ہو گئی ہیں کہ اسلام بزور شمشیر دنیا میں پھیلایا گیا ہے۔ بھلا خیال تو کرو اگر اسلام میں جبر جائز ہوتا تو ہندوستان میں اتنے سو سال حکومت رہی پھر یہ ہزاروں برسوں کے مندر،شوالے اور پستکیں کیوں موجود پائی جاتیں؟ عالمگیر کو بھی الزام دیتے ہیں کہ وہ ظالم تھا اور بالجبر مسلمان کرتا ۔ یہ کیسی بیہودہ بات ہے۔ اس کی فوج کے سپہ سالار ایک ہندو تھے۔ بڑا حصہ اس کی عمر کا اپنے بھائیوں سے لڑتے گزرا۔ اس کی موت بھی تانا شاہ کے مقابل میں ہوئی۔ پھر اسلام بادشاہوں کے افعال کا ذمہ دار نہیں ۔ مسلمانوں نے یہی شاہ کےمقابل میں ہوئی۔ پھر اسلام بادشاہوں کے فعال غلطی کی کہ معترضین کے مفتریات کو تسلیم کر لیا حالانکہ اسلام دلی محبت و اخلاق سے حق بات ماننے کا نام ہے۔ اسی لئے اسلام میں جبر نہیں۔ یہ آیت ضروری یا د رکھنی چاہیے۔ اسلام میں ہرگز اکراہ نہیں ۔ چنانچہ پارہ گیارہ رکوع ۱۰ میں فرماتا ہے۔ وَ لَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَانْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ - (يونس: ١٠٠) قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ - رُشد کہتے ہیں۔ اصَابَةُ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ یعنی واقعی بات کو پالینا لے اور اگر تیرا رب چاہتا (یعنی جبراً) تو ضرور ایمان لے آتے سب کے سب جو زمین میں ہیں اکٹھے تو کیا تو زبر دستی کر سکتا ہے لوگوں پر کہ وہ ایمان لاہی لیں ۔