حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 570
حقائق الفرقان ۵۷۰ سُورَةُ الْبَقَرَة آتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ۔ یہ سورۃ مدنی ہے۔ یہود کے خلاف مسیح کی فضیلت کا اظہار ضروری تھا۔ بِرُوحِ الْقُدُسِ - کلام پاک وَ لَوْ شَاءَ الله - جبراً - مگر اللہ نے انسان کے ایسے قومی بنائے ہیں کہ وہ اپنی مقدرت سے بعض کام کرتا ہے۔ تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۳، ۴۴۴) ۲۵۵ ٢ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَكُم مِّنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِي يَوْمٌ لَّا بَيْعَ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةُ وَالْكَفِرُونَ هُمُ الظَّلِمُونَ - ترجمہ ۔ اے ایمان دارو! ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کر لو اس سے پہلے کہ آ جاوے وہ دن جس میں نہ خرید وفروخت ہوگی اور نہ دوستی و پہچانت اور نہ سفارش اور حق چھپانے والے منکر ہی ظالم ہیں ۔ تفسير يَوْمَ لا بَيْعَ فِيهِ وَلَا خُلَةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ - ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہاں نہ کوئی نئی بیچ ہو سکے گی نہ خلت نہ شفاعت ۔ یہاں بیچ ، خلت ، شفاعت کی مطلق نفی ہرگز نہیں ہے۔ عربی میں لا دو طرح کے آتے ہیں۔ ایک وہ جس کے بعد تنوین آتی ہے اور ایک وہ جس کے بعد تنوین نہیں آتی۔ پہلے کی مثال یہی آیت ہے اور دوسرے کی مثال لا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ (البقرة: ۱۹۸) ان دونوں لا میں فرق ہے۔ تنوین نہ ہو تو اس کے معنے ہیں بالکل نہیں ۔‘ لا نفی جنس کا ہے اور اگر تنوین ہو تو اس سے مراد ہے بعض صورتوں میں نہیں ۔ یہ لا مشبہ بہ لیس ہے ۔ اب چونکہ یہاں تنوین ہے اس لئے یہاں بیچ کی مطلق نفی نہیں۔ اسی لئے دوسرے مقام پر فرمایا فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمُ به (التوبة: 1) اور نہ خُلة کی مطلق نفی ہے۔ چنانچہ فرمایا الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (الزخرف: ۶۸) اور نہ شفاعۃ کی چنانچہ اس سے آگے اِلَّا بِإِذْنِہ آتا ہے۔ لے وہ عورت سے صحبت نہ کرے اور نہ ( کسی قسم کی ) بدکاری کرے اور نہ جھگڑا۔ ہے بشارت اور خوشی ہو اس سوداگری پر جو تم نے اللہ سے کی ۔ (ناشر) سے اس دن جتنے دوست ہیں سب ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے صرف متقی ہی دوست بنے رہیں گے۔ (ناشر)