حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 564
حقائق الفرقان ۵۶۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اللہ نے طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے۔انہوں نے کہا ہم پر اس کی بادشاہی کیونکر ہو سکے گی بلکہ ہم اس کی نسبت بادشاہی کے زیادہ حقدار ہیں اور اس کے پاس مال کی طرف سے کوئی وسعت نہیں۔اُس نے کہا اللہ نے اسے تم پر چن لیا اور اسے علم وجسم دونوں میں کشائش ( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۱۱۱ حاشیہ) ۲۵۰ - فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ فَمَنْ دی ہے۔b شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّى وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمُهُ فَإِنَّهُ مِنِّى إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ فَشَرِ بُوا مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ ملقُوا اللهِ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةٌ بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصبرين - ترجمہ۔پھر جب روانہ ہوا قد آور بادشاہ فوجوں کے ساتھ تو نبی نے کہا کہ اللہ آزمائے گا تم کو ایک نہر سے تو جو پٹے گا اس کا پانی وہ میرا نہیں اور جس نے اس کو نہ چکھا وہ میرا ہے مگر جو بھر لے ایک چگو اپنے ہاتھ سے۔پس سب نے پی لیا اس کا پانی مگر ان میں سے تھوڑے آدمیوں نے (نہیں پیا) پھر جب پار ہو گئے نہر کے وہ قد آور بادشاہ اور اُس کے ساتھ والے ایمان دارلوگوں نے کہا ہم کو تو آج طاقت نہیں ہے جالوت اور اُس کے لشکر سے مقابلہ کی۔کہہ اٹھے وہ لوگ جن کو یقین تھا کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں کہ اکثر تھوڑی سی جماعت غالب آ گئی ہے بڑی بڑی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔تفسیر۔جہاد کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ فی سبیل اللہ ہو اور سپاہی اپنے آفیسروں کی فرما نبرداری کریں۔حدیثوں میں آیا ہے کہ بعض موقعہ پر امتحان لینامنع ہے لیکن اس بات کی مثالیں بھی موجود ہیں کہ بعض موقعوں پر امتحان لے لینا چاہیے۔یہاں اس صورتِ آخرہ کی مثال اس آیت میں ہے۔